لاہور ہائیکورٹ کی ساہیوال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے 9 فروری تک مہلت

لاہور ہائیکورٹ کی ساہیوال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے 9 فروری تک مہلت

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے نادر علی کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالتی حکم پر آر پی او ساہیوال ایاز سلیم عدالت پیش ہوئے اور بیان دیا کہ میری ابھی تعیناتی ہوئی ہے میں نے کیس کی فائل منگوائی ہیں، مجھے مہلت دی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو مہلت مل جائے گی مگر آپ نے اپنے تفتیشی افسران کا کنڈکٹ دیکھا ہے، تمام تفتیشی افسران کو بتا دیں بچوں کے معاملے پر حساس ہو جائیں، بچہ ہو یا بچی اس معاملے میں پولیس غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے کہا کہ بچی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی یو ایس بی عدالت سے گم ہوئی، ہم نے سیشن جج سے انکوائری کرائی ہے تو پتہ چلا کہ وہ یو ایس بی عدالت تک پہنچی ہی نہیں، بچی کیسے گھر سے گئی یہ معاملہ تو تفتیش میں سامنے آئے گا۔

عدالت نے پولیس کو لڑکی کی بازیاب کیلئے مہلت دیتے ہوئے کارروائی 9 فروری تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ساہیوال سے لڑکی کے اغواء کی بازیابی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔