خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) پاکستان نے غزہ میں امن کیلئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔
بورڈ آف پیس ایک کثیر الجہتی سیاسی و سفارتی فورم ہے جس کا مقصد غزہ میں جاری تنازع کے حل کیلئے بین الاقوامی کوششوں کو منظم کرنا ہے، یہ فورم اقوام متحدہ کے فریم ورک بالخصوص سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں، خاص طور پر قرار داد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کے لیے قائم کیا گیا ہے، یہ عسکری نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اور سفارتی فورم ہے اس کا مقصد طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی اتفاق رائے کے ذریعے غزہ میں امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بورڈآف پیس کے اہم اہداف میں شامل ہے کہ غزہ میں مستقل اور قابلِ عمل جنگ بندی کا نفاذ کیا جائے، فلسطینی عوام کیلئے انسانی امداد میں مؤثر اور مسلسل اضافہ کیا جائے، غزہ کی تعمیرِنو کیلئے بین الاقوامی تعاون لایا جائے، فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی حمایت کی جائے، ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر متصل ریاست فلسطین کے قیام کے لیے سیاسی عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے اور خطے میں طویل المدتی استحکام اور پائیدار امن کو فروغ دیا جائے۔
یہ کسی فوجی کارروائی، امن فوج یا سکیورٹی آپریشن کیلئے نہیں بلکہ سیاسی حل کی راہ ہمور کرنے والا پلیٹ فارم ہے، تیس ممالک کو اس فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی جن میں سے نصف کے قریب اس کا حصہ بن چکے ہیں اور باقی کی بھی مرحلہ وار شمولیت متوقع ہے، بورڈآف پیس کو کسی مخصوص بلاک ، اتحاد یا جغرافیائی گروہ تک محدود نہیں رکھا جا رہا، اس میں مختلف خطوں اور مختلف سفارتی رجحانات رکھنے والے ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ایک بین الاقوامی اور متوازن پلیٹ فارم بن سکے۔
پاکستان کی شمولیت اسی تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے اور کسی ایک بلاک کی سیاست کا حصہ نہیں ہیں۔
پاکستان نے دفتر خارجہ کے اعلامیے کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ اس فریم ورک کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ ، فلسطینی عوام کیلئے انسانی امداد میں خاطر خواہ اضافے اور غزہ کی تعمیر نو کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔
پاکستان کو یہ بھی توقع ہے کہ یہ کاوشیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی جس کیلئے ایک قابلِ اعتماد اور وقت کی پابندی والا سیاسی عمل اپنایا جائے گا، پاکستان امید کا اظہار کر رہا ہے کہ یہ عمل بین الاقوامی قانونی حیثیت اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے نتیجے میں 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد خود مختار اور جغرافیائی طور پر متصل ریاست فلسطین کا قیام عمل میں لائے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے ان مقاصد کے حصول اور اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کے خاتمے کیلئے تعمیری کرادار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ ایک اہم، بروقت اور سٹریٹجک قدم ہے، جسے محض ایک سفارتی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے، یہ فیصلہ دراصل پاکستان کی اُس خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو اصول، توازن، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مبنی رہی ہے، غزہ میں جاری انسانی المیے، خطے میں عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی کے تناظر میں پاکستان کا فعال کردار ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
پاکستان کی شمولیت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دنیا تیزی سے بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے، طاقت کے نئے مراکز اُبھر رہے ہیں اور روایتی عالمی نظام دباؤ کا شکار ہے، ایسے حالات میں کثیرالجہتی فورمز میں فعال شرکت کسی بھی ریاست کیلئے اپنی عالمی اہمیت برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی بلاک سیاست سے اجتناب، اصولی مؤقف اور قومی مفاد کے تحفظ پر قائم رہی ہے، فلسطین کے معاملے میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا، تنازع کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تلاش کرنا، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام اور القدس الشریف کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ماننا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور رہے ہیں، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کا مستقل حصہ ہے۔
اسی تناظر میں بورڈ آف پیس میں شمولیت کو ایک اصولی سفارتی اقدام سمجھا جانا چاہیے نہ کہ کسی عسکری یا متنازع سرگرمی کا پیش خیمہ، تاہم حالیہ دنوں میں بعض حلقوں کی جانب سے بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف یعنی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کو ایک ہی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی جار رہی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔
بورڈ آف پیس اور انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے مقاصد اور دائرہ کار ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں، بورڈآف پیس ایک سیاسی و سفارتی فورم ہے جس کا مقصد مذاکرات اور بین الاقوامی اتفاق رائے ہے جبکہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس زمینی استحکام اور سکیورٹی سے جڑا ہے، انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے معاملے پر پاکستان نے ابتدا ہی سے ایک محتاط ، واضح اور غیر مبہم مؤقف اپنایا ہوا ہے۔
پاکستان یہ کہہ چکا ہے کہ آئی ایس ایف میں شمولیت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ پاکستان کے مفاد، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور پاکستانی و فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا، ایک بڑے اسلامی اور عسکری صلاحیت رکھنے والے ملک کیلئے بورڈ آف پیس جیسے فورمز کو نظر انداز کرنا اپنی سٹریٹجک اہمیت کو کمزور کرنے کے برابر ہو سکتا ہے۔