لاہور: (وقاص ریاض) حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا ہوا ہے، جین زی (1997ء اور 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والے) کے طلبا کی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی نے نہ صرف تعلیمی معیار کے حوالے سے سوالات پیدا کئے ہیں بلکہ اس سے مستقبل کے کریئر اور سماجی ترقی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
Fortune‘میگزین کے ایک تازہ آرٹیکل کے مطابق ماہرینِ تعلیم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جین زی کے طلبا اکثر نصابی مواد کو خود سے سمجھنے یا تجزیہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اساتذہ کی رائے میں، کئی طلبا ایسے ہیں جن کی پڑھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہے، یہ کمی صرف تنقیدی سوچ یا تجزیاتی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ الفاظ کو صحیح طور پر سمجھنے اور جملوں کی گہرائی میں جانے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔
بہت سے طلبا نصابی کتب کو خود سے پڑھ کر سمجھنے کے بجائے خلاصے یا امدادی نوٹس پر انحصار کرتے ہیں جو صرف ظاہری معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن اصل معنی اور گہرائی تک پہنچنے میں مددگار نہیں، یہ رجحان تعلیمی اداروں میں اساتذہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اساتذہ مجبور ہو کر کلاس روم میں مواد کو بار بار دہراتے ہیں، اہم جملوں اور پیراگراف کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض اوقات نصاب کو آسان زبان میں پیش کرنے پر مجبور ہیں۔
ان کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی معیار کو کم کرنے کیلئے نہیں بلکہ طلبا کی بنیادی صلاحیتیں بہتر بنانے کیلئے ہیں تاکہ وہ بعد میں زیادہ پیچیدہ نصاب اور تحقیقی مواد کو سمجھ سکیں۔
تعلیمی رویوں میں تبدیلی
اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کے مطابق وہ اپنی تدریسی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں مثال کے طور پر کچھ اساتذہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے پڑھاتے ہیں، کلاس میں سوالات کے ذریعے طلبا کی سمجھ بوجھ کو پرکھتے ہیں اور مواد کی وضاحت کیلئے جدید تدریسی ٹولز جیسے ویڈیو اور انٹرایکٹو گیمز کا استعمال کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ طلبا کو اعتماد دینے کیلئے بعض اساتذہ گریڈز کے دباؤ کو کم کر کے انہیں زیادہ پرسکون ماحول فراہم کر رہے ہیں، یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ طلبا کی تفہیم، تجزیہ اور علمی سوچ کو فروغ دینا بھی ہے، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اگر پڑھنے کی صلاحیت میں کمی برقرار رہی تو یہ بعد میں نہ صرف تعلیمی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
جین زی کی عادات اور سماجی تبدیلیاں
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جین زی کی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ صرف تعلیمی اداروں کی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیاں بھی ہیں، حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکی افراد نے 2025ء میں ایک بھی کتاب نہیں پڑھی اور نوجوانوں کی پڑھنے کی عادات سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، اس کا تعلق موبائل فون، سوشل میڈیا اور فوری معلومات کے رجحان سے ہے جو طویل اور پیچیدہ مواد کو سمجھنے کی عادت کو کمزور کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جین زی کے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی اور اضطراب کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں، اساتذہ کے مطابق یہ عوامل پڑھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں، طلبا جب پڑھنے کی عادت سے محروم ہوں تو وہ اکثر شارٹ نوٹس، خلاصے یا AI کی مدد پر انحصار کرتے ہیں جس سے اصل علمی مواد سے دوری بڑھتی ہے۔
تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر اثرات
اساتذہ اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو جین زی کی تعلیم اور مستقبل میں کیریئر کی تیاری پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، پڑھنے کی صلاحیت نہ صرف تعلیمی کامیابی بلکہ سماجی فہم اور تنقیدی سوچ کیلئے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے، وہ طلبا جو کتابوں اور تحقیقی مواد کو گہرائی سے نہیں پڑھ پاتے وہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ مواقع سے بھی پیچھے رہ سکتے ہیں۔
جین زی کی تعلیمی صلاحیت بہتر بنانے کیلئے تجاویز
پڑھنے کی عادت کو فروغ دینا: والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ ابتدائی عمر سے طلبا کو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں، کہانیاں، ناول اور معلوماتی کتابیں بچوں کو سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہیں۔
نصابی مواد کو مرحلہ وار سمجھانا: اساتذہ کو چاہیے کہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں، اہم نکات پر توجہ دیں اور کلاس میں سوالات کے ذریعے طلبا کی سمجھ بوجھ کو جانچیں۔
تکنیکی وسائل کا مناسب استعمال: ویڈیوز، پوڈکاسٹس اور انٹرایکٹو ایپلی کیشنز کا استعمال طلبا کو پیچیدہ مواد کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ یہ صرف معاون ٹول کے طور پر استعمال ہوں نہ کہ متبادل کے طور پر۔
تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت: اساتذہ کو طلبا کو سوالات کرنے اور خود سے جواب تلاش کرنے کی تربیت دینی چاہیے، اس سے نہ صرف تعلیمی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی کیلئے بھی تیاری ہوگی۔
اعتماد اور ذہنی سکون کی اہمیت: طلبا کو اضطراب کم کرنے اور خود اعتمادی بڑھانے کیلئے کلاس روم میں پرسکون ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، جب طلبا غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہوں تو وہ بہتر طریقے سے پڑھ سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں۔
جین زی کے طلبا کی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کا مسئلہ تعلیمی معیار، سماجی شعور اور مستقبل کی پیشہ ورانہ تیاری پر اثر ڈال رہا ہے، اگرچہ اساتذہ نے اپنی تدریسی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ طلباکو بہتر تربیت دی جا سکے لیکن یہ مسئلہ صرف تعلیمی اداروں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا، والدین، معاشرہ اور خود طلبا کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔
اگر ابتدائی عمر سے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں، نصاب کو مرحلہ وار سمجھیں، تکنیکی وسائل کو مؤثر استعمال کریں اور تنقیدی سوچ اور اعتماد کو فروغ دیں تو جین زی نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری لاسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں سماجی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
وقاص ریاض فزکس کے استاد ہیں، سائنس اور تعلیم کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔



