سانحہ بھاٹی گیٹ: تفتیش کا دائرہ ’نااہل افسران‘ کے گریبانوں تک پہنچ گیا

سانحہ بھاٹی گیٹ: تفتیش کا دائرہ ’نااہل افسران‘ کے گریبانوں تک پہنچ گیا

سانحہ بھاٹی گیٹ پر وزیر اعلی مریم نواز شریف کی شدید برہمی رنگ لے آئی، منصوبے پر کام کرنے والی ایس ایم ایس ڈیزائن اینڈ انجینئرنگ سسٹم کمپنی کو کام سے روک دیا گیا، تفتیش کا دائرہ دار بڑھا دیا گیا۔

معاملے کی تفتیش نجی کمپنی سے بڑھ کر ’نااہل افسران‘ کے گریبانوں تک پہنچ گئی، غفلت برتنے والے سرکاری افسران کا گھیراؤ بھی کیا جائے، کمپنی کی مجرمانہ غفلت اور بنیادی حفاظتی ایس او پیز سے مجرمانہ روگردانی اس المناک حادثے کی اصل وجہ بنی۔

بھاٹی گیٹ پر کام کرنے وی کمپنی کے سیفٹی آفیسرز سمیت 5 ملزمان سلاخوں کے پیچھے، 4 روزہ ریمانڈ منظور کرلیا گیا، سانحہ بھاٹی گیٹ کمپنی کے مالکان عثمان یاسین اور سلمان یاسین بھی گرفتار کر لیے گے، مجرمانہ غفلت پر بھاٹی گیٹ پر کام کرنے والی کمپنی کے سیفٹی آفیسر محمد ہنزلہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

دو سے تین فروری تک سانحہ بھاٹی گیٹ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے کیس مزید تیزی سے آگے بڑھے گا، گرفتاری کے بعد ملزمان کے نام اصغر علی، سیفٹی آفیسر ہنزلہ، احمد نواز، کمپنی مالکان سلمان یاسین اور عثمان یاسین سے تفتیش جاری ہے۔

وزیر اعلی مریم نواز کے نوٹس کے بعد سانحہ بھاٹی ’ڈیتھ ٹریپ‘ محفوظ زون میں تبدیل ہو گیا، حفاظتی اقدامات کے بغیر کام کرنے پر مکمل پابندی، سائٹ کو جدید سیفٹی پروٹوکولز سے ڈھانپ دیا گیا۔

اِس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا، ہستا بستا گھرانہ اُجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا میرا مشن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معصوم سعدیہ اور اُس کی ننھی پری کے زخم دیکھ کر دل لہو کے آنسو رویا، یہ زخم پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں۔