خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور میں بسنت میلے کا آج آخری روز بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے، آسمان پتنگوں سے بھرا نظر آتا ہے، طرح طرح کے پکوان اور بسنتی چولے پہنے لوگ بہار کی آمد کا جشن منا رہے ہیں۔
پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں، بالخصوص اندرون، کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھری ہوئی ہیں، بچے بڑے سب پیچ لڑانے میں مصروف ہیں، کچھ بچے گلیوں میں سڑکوں میں پتنگیں لوٹنے میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔
بسنت کے پہلے روز ہوا نہ چلنے کی وجہ سے دن بھر آسمان گڈی کو ترستا رہا مگر رات کو ہوا چلتے ہی من چلے چھتوں پر چڑھ گئے اور امن کی علامت سفید رنگ کی گڈیوں سے فضا سرسرانے لگی، کل دن بھر بھی ہوا چلتی رہی مگر اسلام آباد دھماکہ کے زیر اثر سوگ کی فضا بھی طاری رہی۔

بسنت کے دوسرے روز ڈھول ڈھمکے ماند رہے، مگر رات بھر آسمان پتنگوں سے سجا رہا، اس وقت بھی ہوا ساز گار ہے، شہری پیچ لڑانے کو تیار ہیں۔
مختلف شہروں کے مکینوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مہمانوں کی بھی بڑی تعداد بسنت پر لاہور آئی ہے، لاہوریوں کے ساتھ مل کر بسنت کو بھرپور انداز میں منا رہی ہے۔
.jpg)
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اندرون لاہور، حمزہ شہباز نے اندرون لوہاری گیٹ کے علاقہ میں بسنت منائی، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی پتنگ اڑائی۔
سیاسی رہنما فواد چودھری نے لاہور میں پتنگ اڑائی، بسنت کو حکومت کی جانب سے اچھی کوشش قرار دیا۔

بسنت پر خواتین کی شرکت بھی نمایاں رہی، کئی خواتین نے خود پتنگیں اڑائیں جبکہ دیگر نے ہاتھوں پر مہندی سجائی، رنگین لباس زیب تن کیے اور گھروں میں خصوصی پکوان تیار کیے، بسنت کے جشن کے ساتھ روایتی کھانوں اور مٹھائیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔