خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے جامع پلان طلب کرلیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں تھانوں کے باہر شکایات کے ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کرنے، انوسٹی گیشن کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ اور ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صوبہ بھر میں 14 ہزار باڈی کیم اور 700 پینک بٹن لگائے جائیں گے جبکہ ہر تھانے کے 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے، گمشدہ شناختی کارڈ اور کاغذات کی ایف آئی آر بھی آن لائن درج ہوسکے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو ‘سر’ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم کیا جائے، چھوٹی شکایات 2 سے 3 گھنٹوں میں حل کرنے، افسران کو عوامی فیڈ بیک لینے اور ٹریفک کو لین میں چلانے کی بھی ہدایت دی گئی، ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا آغاز بھی کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد اور بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ 80 منٹ کے رسپانس ٹائم سے منفی فیڈ بیک کم ہوا، ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہئے، عوام کو نہیں، بچوں اور خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب تمام ڈی پی اوز کے ساتھ آن لائن میٹنگ کریں، ہمارے ملک میں پولیس عوام کو اوئے کہہ کربلاتی ہے، دوسرے ممالک میں عوام کو سر کہہ کر بلایا جاتا ہے، جو ہوگیا سو ہوگیا، اب جو کرپشن یا رشوت لے گا اس کے خلاف ایکشن ہوگا، اپنی غلطی کو چھپانے سے ہم غلطیوں کو درست نہیں کرسکتے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب پولیس میں 7لاکھ پولیس فورس ہے، سی سی ڈی کے پاس 2ہزار کی نفری ہے، پھر بھی سی سی ڈی نے پورے پنجاب میں امن وامان قائم کرکے دکھایا، ایک ایک پولیس اہلکار کی پرفارمنس مانیٹر ہونی چاہئے، پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتیاں ہونی چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس ریفارمز اب نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوں گی، پنجاب میں ہر خاتون کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے، کوئی خاتون خود کو محفوظ نہیں سمجھتی تویہ ہم سب کی ناکامی ہے، خواتین اگر پولیس اسٹیشن نہیں آسکتیں تو موبائل سٹیشن خود ان کے پاس پہنچیں۔
انہوں نے دو ٹوک کہا کہ بچوں کے ساتھ ہراسگی کے واقعات پر سخت ایکشن ہونا چاہئے، جو اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھے گا تو والدین کو پکڑا جائے گا، والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ بچہ کب باہر کھیلنے چلا گیا، والدین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، جن والدین کو بچوں کا خیال نہ ہو ان سے بھی سختی سے پوچھا جانا چاہئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر شاباش عوام کے سامنے دی جاتی ہے توسزابھی عوام کے سامنے ملنی چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتی لیکن ہم سب عوام کو جوابدہ ہیں۔