گورنر پنجاب نے لینڈ ریونیو اور جائیداد تحفظ کے ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیئے

گورنر پنجاب نے لینڈ ریونیو اور جائیداد تحفظ کے ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیئے

ترمیمی آرڈیننس سے پنجاب لینڈ ریونیو میں ڈیجیٹل نظام اور جدت کی ترویج ہو گی، ترمیمی آرڈیننس کا مقصد زمین کے مالکان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس

پنجاب لینڈ ریونیو ترمیمی آرڈیننس میں قبضے کی منتقلی اور زر واصلات منافع کے ساتھ زمین کی تقسیم پر بات کی گئی، اپیلوں، نظرثانی کے عمل میں اصلاحات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، الیکٹرانک ڈیجیٹل ذرائع سے سمن ، نوٹسز اور اعلان کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے قانونی طریقہ کار مرتب کیا جائے گا، اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا، نئے قانون کے تحت زمین کے تمام تر انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے، پٹواری کو صرف وراثتی انتقال کا اختیار ہوگا۔

نئے قانون کے تحت کسی کیس میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہو گا۔

غیر منقولہ جائیداد ملکیت تحفظ ترمیمی آرڈیننس

غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے تحفظ کے لیے جاری ترمیمی آرڈیننس کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

سکروٹنی کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او کے علاوہ سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن کے انچارج افسر کا اضافہ ہوگا، غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5سے 10سال سزا کے علاوہ 10ملین تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہوگا۔

جھوٹی شکایت کی صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 5 سال تک کی سزا ہوگی۔

پہلے قانون میں شکایت تنازعات کے حل کی کمیٹی کے سامنے کی جاتی تھیں تاہم اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائے گی، ٹربیونل 3دن کے اندر شکایت سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کے لئے بھیجنے کا پابند ہوگا۔

سکروٹنی کمیٹی 30دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گی جبکہ پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مزید 90 دن آگے کی جاسکتی تھی۔

ٹریبونل 30دن میں فیصلہ کرے گا جبکہ پہلے یہ معیاد 90دن تھی، ٹریبونل کو ایک ہی مقدمے میں منسلک جرائم کی سماعت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ پہلے ٹریبونل کا دائرہ اختیار صرف ایکٹ کے تحت کی گئی کاروائیوں تک محدود تھا۔

ڈپٹی کمشنر کے بجائے ٹریبونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا۔

آرڈیننس کے اجراء کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹریبونل کے ممبر ہوں گے جبکہ پہلے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے۔

خیال رہے کہ جائیداد ملکیت تحفظ کے ایکٹ پر لاہور ہائیکورٹ نے عملدرآمد روک دیا تھا جس کے بعد ترامیم کی گئیں۔