خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشت گردی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، ریاستِ پاکستان کو ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے لکھا کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں معصوم جانوں کا خون بہانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پختون روایات سے، یہ عناصر اپنے خودساختہ نظریات کی تکمیل کیلئے انسانیت کی ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سر زمین کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے، مگر اس کے برعکس پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت اور دراندازی ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ قومی سلامتی، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر سیاسی وابستگی اور مفاد سے بالاتر ہے، اس جنگ کا جواب مکمل قومی اتحاد، عوامی حمایت اور فولادی عزم سے دیا جائے گا، ہماری سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی مکمل تائید کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں۔
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دشمن کے مذموم عزائم کا مقابلہ کریں، پاکستان کے خلاف ہونے والی اس دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان کے امن، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قوم متحد ہے، افواج مستعد ہیں، ہر قربانی کا حساب لیا جائے گا۔