خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان خطےمیں سب سےزیادہ پٹرول مہنگا کرنے والا ملک بن گیا ہے جس سے پاکستان میں مہنگائی کا نیا سیلاب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، شہریوں نے حکومت سے پٹرول میں فوری کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم ذخائر موجود ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، پاکستان میں اس وقت پٹرول کی قیمت321روپے17 پیسے فی لٹر ہے۔
بھارت میں ایک لٹر پٹرول کی قیمت94روپے77پیسے مقرر ہے، سری لنکا میں ایک لٹر پٹرول293 روپے کا ہے، بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت پاکستان سےانتہائی کم ہے یعنی ایک لٹرپٹرول 116 ٹکا میں فروخت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کا ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں 55،55روپے فی لٹر اضافےکا اعلان
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے شہریوں کو خوشی غمی میں عزیز و اقارت سے ملنے میں دشواری ہو گی۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سے دوسرے شہروں میں بسلسلہ ملازمت و مزدوری کرنے والوں کے لیے بھی اخراجات بڑھ جائیں گے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا سیلاب بھی آئے گا۔
دوسری طرف پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے 55 روپے فی لٹر اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔