وزیراعظم کفایت شعاری بارے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان پیر کو کریں گے

وزیراعظم کفایت شعاری بارے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان پیر کو کریں گے

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بین الاقوامی سطح پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہے، حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

اُنہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے جن سے عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، وفاقی و صوبائی سطح پر تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنی ہو گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ مشکل وقت میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیے، انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کے مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو ضروری ایڈجسٹمنٹس برداشت کرنے میں خود مثال قائم کرنی چاہیے۔

اجلاس  کے شرکا کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور بچت کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کل کیا جائے گا۔

دوسری جانب بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیشگی انتظامات کر رکھے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں دانشمندانہ انتظام اور ایندھن کے محتاط استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ وزارتِ آئی ٹی سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے طلب اور رسد کی مستقل نگرانی کے نظام کی سہولت فراہم کرے گی تاکہ متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔

علاوہ ازیں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی حالیہ عالمی کشیدگی کے پیش نظر صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر پاور سردار اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز موجود تھے۔

اِسی طرح اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، معاون خصوصی ہارون اختر، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔