خلاصہ
- اسلام آباد: (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کے معاملے میں جیل سپرنٹنڈنٹ نے جواب جمع کراتے ہوئے نیا انکشاف کیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنے نئے جواب میں وکیل سلمان صفدر پر عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے جیل انتظامیہ کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق 16 جون کو وکالت نامے دستخط کے بعد تیار تھے اور اسی روز وکیل کو آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔
جواب کے مطابق سلمان صفدر کو 16 جون کو ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ وکالت نامے تیار ہیں، جبکہ اس کا سکرین شاٹ بھی عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔
جیل انتظامیہ کے مطابق وکیل کی جانب سے جان بوجھ کر 18 جون کی سماعت سے قبل وکالت نامے وصول نہیں کیے گئے، جو ان کے مؤقف کے برعکس ہے۔ یہ معاملہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں وکالت ناموں سے متعلق ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے جواب کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤقف میں حقیقت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا سٹاف گزشتہ چار ہفتوں کے دوران شدید گرمی میں پانچ سے چھ مرتبہ اڈیالہ جیل گیا، تاہم وکالت نامے فراہم نہیں کیے گئے اور انہیں باہر انتظار میں رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی وکلا سرفراز ایڈوکیٹ، احمد میسر اور خالد یوسف نے بھی اڈیالہ جیل کے متعدد چکر لگائے، ان کے مطابق 15 جون کی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے پر انہیں مجبور ہونا پڑا۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق درخواست دائر ہونے کے بعد پہلی بار جیل حکام نے انہیں کہا کہ صرف عمران خان کا وکالت نامہ لے جائیں، جبکہ بشریٰ بی بی کا وکالت نامہ فراہم نہیں کیا گیا، جو ان کے بقول ناقابل قبول تھا۔