خیبرپختونخوا میں بارشیں، چھتیں، دیواریں گرنے سے 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی

خیبرپختونخوا میں بارشیں، چھتیں، دیواریں گرنے سے 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی

پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 بچے اور ایک خاتون جبکہ زخمیوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں، تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 14 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 13 گھروں کو جزوی جبکہ 1 گھر مکمل منہدم ہوا۔

پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم میں پیش آئے، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

پی ڈی ایم اے نے مزیدب تایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطع اور بہاو معمول کے مطابق ہے، تیز بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق پہلے ہی سے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کے لئے مراسلہ جاری کیا ہوا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں، حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

نوشہرہ میں سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد محفوظ مقام پر منتقل

دوسری جانب ریسکیو ترجمان کے مطابق نوشہرہ میں رات گئے شدید بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ کے دوران دو مختلف مقامات پر لوگوں کے پھنسنے کی اطلاعات موصول ہوئی۔

پہلی ایمرجنسی صاحبزادہ ٹاؤن، اکوڑہ خٹک میں پیش آئی، جہاں سیلابی ریلے کے باعث 12 افراد محصور ہوگئے تھے، ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام 12 افراد کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

ریسکیو ترجمان کا کہنا ہے کہ دوسرا واقعہ آدم زئی میں پیش آیا، فلیش فلڈ کے باعث 6 افراد پھنس گئے تھے، واٹر ریسکیو ٹیموں نے فوری رسپانس دیتے ہوئے تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا۔

مانسہرہ میں سیلابی ریلے کے باعث 3 رابطہ پل بہہ گئے، زمینی رابطہ منقطع

مانسہرہ میں سیلابی صورتحال پر ضلعی انتطامیہ نے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی۔

ایڈینشل ریلیف کمشنر اسد لودھی کے مطابق مانسہرہ وادی کاغان میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 3 رابطہ پل بہہ گئے، مانسہرہ درمیانہ گاؤں کا کاغان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ریلے کا پانی کئی گھروں اور دکانوں مین داخل ہونے سے متعدد گھر اور دکانیں جزوی طور پر متاثر ہوئی۔

وادی سرن کے علاقے مولی کٹھا میں سیلاب سے 3 رہائشی گھر اور ایک ہوٹل جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں، مسافروں اور مقامی افراد کو دریاؤں ندی نالوں اور برساتی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیاح و مقامی افراد آئندہ چند روز تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

ایڈیشنل کمشنر ریلیف اسد لودھی کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122، پولیس سمیت تمام اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔