لندن میں یومِ استحصالِ کشمیر سیمینار، پاکستانیوں کا کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

لندن میں یومِ استحصالِ کشمیر سیمینار، پاکستانیوں کا کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

 سیمینار میں برطانوی پارلیمنٹیرینز، قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنان، سماجی شخصیات اور برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پروگرام میں میں لارڈ قربان حسین، بیرونس نوشینہ مبارک، افضل خان ایم پی، عدنان حسین ایم پی، کونسلر یاسمین ڈار، یوکے-پاکستان کشمیری کونسلرز فورم کے چیئرمین لیاقت علی ایم بی ای، جموں کشمیر سیلف ڈیٹرمینیشن موومنٹ انٹرنیشنل (JKSDMI) کے چیئرمین راجہ نجابت حسین، پیٹربورو کے سابق ڈپٹی میئر محمد ندیم سمیت دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

مقررین نے سات برس قبل بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری طور پر ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے مقررین نے عالمی پالیسی سازوں تک مؤثر سفارتی رسائی کے لیے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ بھی تجویز کیا۔

پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ہمیشہ غیر متزلزل اور غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً برطانیہ، پر زور دیا کہ وہ انصاف کا ساتھ دے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات واپس لے، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور حقوق بحال کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا احترام کرے۔

سیمینار کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے جب کہ شرکاء نے شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔