خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو آئین اور قانون کے مطابق صحت کی تمام ضروری سہولتیں پہلے بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی دستیاب رہیں گی۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے گفتگو میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس پر حکومت نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی، نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق بھی نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی کسی کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی صحت کے معاملات کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر کھانا بند کرنے کی بات کیا کرتے تھے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کبھی بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ہر قیدی کا حق ہے کہ اسے آئین اور قانون کے مطابق صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی علاج اور طبی سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی پہلے کی طرح طبی سہولتیں دستیاب رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ علاج کے معاملے میں کسی قسم کا ابہام نہیں۔ قیدیوں کو جیل مینوئل کے مطابق صحت کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی یہی طریقہ کار جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحت کا معاملہ سیاست سے الگ رہنا چاہیے اور حکومت اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے آئین، قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ جو تاثر یہ قائم کرنا چاہتے ہیں یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال کے حوالے سے نظرثانی کی درخواست دائر ہونی چاہئے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ تمام قیدیوں کو یہ حق حاصل ہے؟ یہ قانونی معاملہ ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔