4 نوجوانوں کی ہلاکت، بغیر لائسنس بس چلانے والے ڈرائیور کی ضمانت نامنظور

4 نوجوانوں کی ہلاکت، بغیر لائسنس بس چلانے والے ڈرائیور کی ضمانت نامنظور

جسٹس تنویر احمد شیخ نے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ مزید تفتیش کا متقاضی نہیں اور اس کی بادی النظر میں جرم میں شمولیت کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ صدر شجاع آباد، ملتان میں گزشتہ سال پندرہ نومبر کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمے کے مطابق چار نوجوان موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ اڈا ناصر موڑ کے قریب مخالف سمت سے آنے والی بس نے انہیں ٹکر مار دی، حادثے کے نتیجے میں چاروں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک کی اگلے روز شادی مقرر تھی۔

فیصلے کے مطابق ملزم ریاض حسین کو ابتدائی ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا بلکہ مالکانِ بس کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کے دوران اس کا نام سامنے آیا، جس کے بعد مدعی نے تئیس دسمبر کو ضمنی بیان کے ذریعے اسے مقدمے میں نامزد کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے پاس ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کا لائسنس موجود تھا تاہم وہ پبلک سروس وہیکل لائسنس کا حامل نہیں تھا، جو بس، کوسٹر اور دیگر مسافر بردار تجارتی گاڑیاں چلانے کے لیے ضروری ہے، لہٰذا ملزم کا بس چلانا غیر قانونی اور خلاف قانون عمل تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی شخص مؤثر لائسنس کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے تیز رفتاری یا غفلت سے کسی کی موت کا سبب بنے تو معاملہ قتل خطا کے تحت آتا ہے، لیکن بغیر متعلقہ لائسنس کے گاڑی چلانا غیر قانونی فعل ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت قَتل بالسبب کے زمرے میں آتی ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دفعہ تین سو بائیس تعزیرات پاکستان کے تحت جرم کی سزا دیت ہے، تاہم ضابطہ فوجداری کے دوسرے شیڈول کے مطابق یہ جرم قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت ہے، صرف یہ حقیقت کہ جرم کی سزا دیت ہے، ملزم کو ضمانت پر رہائی کا حقدار نہیں بناتی۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی انتہائی تیز رفتار اور غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کے حق میں اختیاری اختیار استعمال کرنا مناسب نہیں، عدالت نے ریاض حسین کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کردی۔