پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری

پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری

تحقیقاتی کمیٹی کی 9 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ میں فائر ایگزٹس بند یا رکاوٹ زدہ ہونے کا انکشاف ہوا، فائر فائٹرز کو بعض دروازے توڑ کر کھولنا پڑے، پمز میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور متاثرہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پمز نرسری میں آگ 6 بجکر 38 منٹ پر لگی، آگ لگنے کے صرف 2 منٹ میں نرسری کا ماحول تباہ کن حد تک خراب ہو گیا تھا، چارج نرس نسرین نے فوری طور پر مدد طلب کی، سکیورٹی گارڈ ماریہ بھی نرسری میں داخل ہوئی، ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کے بچوں کو چھوڑ کر بھاگنے کا عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوا۔

سٹاف نرس رضیہ نے جلتی نرسری سے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالا، آئیسکو ریکارڈ میں بیرونی بجلی کی لائن میں خرابی یا ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا، سب سے واضح انتظامی مسئلہ پمز کے سکیورٹی اور فائر سیفٹی سسٹم میں پایا گیا۔

ہسپتال کی سکیورٹی کمپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی، پمز انتظامیہ کو سکیورٹی کمپنی کے ساتھ معاہدے کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی، آگ کی صورت میں الارم کون بجائے گا؟ ریسکیو کو کون اطلاع دے گا؟ واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔

کمیٹی نے چارج نرس نسرین اور سکیورٹی گارڈ ماریہ کو ڈیوٹی سے ہٹانے کی سفارش کی، اور انہیں آئندہ احکامات تک کوئی ذمہ داری نہ دینے کی بھی سفارش کی ہے۔