خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) ملک بھر میں آج یومِ دفاع و شہداء ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا،علماء کرام نے شہدائے وطن کے درجات کی سربلندی کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہدائے وطن کی عظیم قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،وطن عزیز کے دفاع اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
وطن کی سلامتی کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور وطن کی سلامتی و استحکام کے لیے متحد رہے گی۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پروقار تقریب
یوم دفاع و شہداء کے موقع پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، یادگارِ شہداء پر پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی،وزیراعظم آزاد کشمیرافتخار گیلانی اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے مظفرآباد میں یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے یاد گار شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی،تقریب کے اختتام پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی سلامتی، ترقی و خوشحالی اور شہداء وطن کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر ملتان میں پُروقار تقریب کا انعقاد
ملتان میں تقریب کے دوران پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نےیادگار شہداء پرسلامی پیش کی،یومِ دفاع و شہداء کے موقع پرکمانڈرسدرن کمانڈ نے یادگارِشہداء پر پھول رکھے اورفاتحہ خوانی کی،تقریب میں اعلیٰ فوجی افسران،سول انتظامیہ،جوانوں اوردیگر حکام نے بھرپورشرکت کی۔
تقریب میں شہداء کی لازوال قربانیوں کوخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِیکجہتی کیا گیا۔
راولپنڈی میں پُروقار تقریب کا انعقاد
راولپنڈی میں منعقد ہونیوالی تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی افسران،سول انتظامیہ، جوانوں اوردیگرحکام نے بھرپورشرکت کی،تقریب کے دوران پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نےیادگارشہداء پرسلامی پیش کی اورپھول رکھے۔
تقریب کے دوران ملکی دفاع کیلئے جانوں کی عظیم قربانی دینے والے شہداء کوزبردست اندازمیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
گوجرانولہ نشانِ منزل میں پُروقار تقریب
گوجرانولہ میں تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی افسران،سول انتظامیہ، جوانوں اوردیگرحکام نے بھرپورشرکت کی،تقریب کے دوران پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نےیادگارشہداء پرسلامی پیش کی اورپھول رکھے۔
تقریب کے دوران ملکی دفاع کیلئے جانوں کی عظیم قربانی دینے والے شہداء کوزبردست اندازمیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
پشاورمیں یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر پُروقارتقریب کا انعقاد
پشاورمیں منعقدہ تقریب میں اعلیٰ فوجی افسران،سول انتظامیہ،جوانوں اوردیگرحکام نے بھرپورشرکت کی، یوم دفاع وشہداء کی تقریب کے دوران پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے یادگارشہداء پرسلامی پیش کی۔
پشاورمیں اعلیٰ فوجی افسران نے یادگارِ شہداء پر پھول رکھے اورشہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی،
بہاولپورمیں یادگارِشہداء پُرپروقارتقریب
بہاولپورمیں یادگارشہداء پرپاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی،اعلیٰ فوجی افسران نے یادگارِشہداء پرپھول رکھے اورشہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی،بہاولپورمیں منعقدہ تقریب میں اعلیٰ فوجی افسران،سول انتظامیہ اورجوانوں سمیت شہریوں نے بھی بھرپورشرکت کی۔
6 ستمبر 1965 کو کیا ہوا؟
6 ستمبر 1965 کی شب بھارتی فوج جنگ کا اعلان کیے بغیر بین الاقوامی بارڈر لائن پار کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئی۔ بھارتی جرنیلوں کا منصوبہ تھا کہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی ٹینک اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری کو سلامی دیں گے اور شام کو لاہور جیم خانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران بیرونی دنیا کو خبردیں گے کہ اسلام کا قلعہ سمجھی جانے والی ریاست پر کفار کا قبضہ ہو چکا ہے لیکن بھارت کے ارادوں اور منصوبوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب ان کی افواج کو مختلف محاذوں پر شکست اور پسپائی کی خبریں ملنے لگیں۔
چونڈہ: بھارتی ٹینکوں کا قبرستان
جنگوں کی تاریخ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی سیالکوٹ کے علاقے چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی جہاں طاقت کے نشے میں چور بھارتی فوج 6 سو ٹينک لے کر پاکستان ميں داخل ہوگئی تھی۔ پاکستان فوج کی زبردست جوابی کارروائی نے دشمن کے 45 ٹینک تباہ کر دیے اور کئی ٹینک قبضے میں لے لیے تھے۔ اسی طرح 5 فیلڈ گنیں قبضہ میں لے کر بہت سارے فوجی قیدی بھی بنائے گئے۔
جنگ کا پانسہ پلٹتا دیکھ کر بھارتی فوجی حواس باختہ ہوگئے اور ٹینک چھوڑ کرفرار ہونے لگے۔تو پاک فوج نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کے علاقے میں کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ اسی لیے چونڈہ کے مقام کو بھارتی ٹینکوں کیلئے ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔
لاہور کے محاذ:
پاک فوج کی 150 سپاہیوں کی ایک کمپنی نے 12 گھنٹے تک ہندوستان کی ڈیڑھ ہزار فوج کو لاہور میں روکے رکھا اور ہماری پچھلی فوج کو دفاع مضبوط کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔
لاہور میں ایک اور جنگی محاذ پر میجر عزیز بھٹی پہرا دے رہے تھے۔ وہ اس وقت لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔ میجر عزیز مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے ۔ بلآخر 12 ستمبر 1965 کو بھارتی ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھایا اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔
جنگِ ستمبر کے دوران بھارتی فوج نے 17 دن میں 13 حملے کئے۔ ان کی افواج تعداد اور جنگی ساز و سامان کے حوالے سے کئی گناہ طاقتور تھی۔ پاکستانی فوج تعداد اور تیاری کے حساب سے بھارت سے بہت کم تھی لیکن پاکستانی جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر مسلسل 17 دن تک دشمن کو لاہور میں داخل ہونے سے روکے رکھا اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔