پاک امریکہ تعلقات میں جدت، تخلیقی صلاحیت اور مواقع اہم ہیں: امریکی قونصل جنرل

پاک امریکہ تعلقات میں جدت، تخلیقی صلاحیت اور مواقع اہم ہیں: امریکی قونصل جنرل

امریکی قونصلیٹ جنرل لاہور سٹیٹسن سینڈرز نے امریکہ کے بنیادی اصولوں کو موجودہ پاک امریکہ تعلقات کے لیے بلاواسطہ طور پر اہم قرار دیتے ہوئے اپنی گفتگو کو امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے چار مرکزی ستونوں، جدت، تخلیقی صلاحیت، باہمی رابطے اور مواقع، پر مرکوز کیا۔

تقریب میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ کس طرح آزادی اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اصول دونوں اقوام کے لیے باہمی خوشحالی، سلامتی اور ترقی کے مواقع کو فروغ دے رہے ہیں۔

تقریب میں پنجاب کی صوبائی قیادت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں سرکاری اہلکار، منتخب نمائندے، سماجی رہنما، کاروباری شخصیات، ماہرین تعلیم، صحافی اور سفارتی عملے کے ارکان شامل تھے، اجتماع پاکستانی معاشرے کے ساتھ امریکہ کے وسیع تر روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جس سے دونوں حکومتوں کی جانب سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تسلسل کو دی جانے والی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور امریکہ کے قومی ترانوں سے ہوا اور اختتام پر جاز موسیقی کا مظاہرہ کیا گیا، جسے امریکی ثقافت اور موسیقی کو دوسرے گوناگوں روابط میں سے ایک کے طور پر پیش کیا گیا جو دونوں ممالک کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں امریکی قونصل جنرل سٹیٹسن سینڈرز نے امریکی نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں امریکی اقتصادی سرگرمیوں کے حوالے سے ملک میں روزگار کی فراہمی اور صلاحیت کو فروغ دینے کو بطور مثال پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہری پور میں گوگل کروم بک کی اسمبلی لائن سے لے کر پاکستانی ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ میں امریکی سرمایہ کاری شامل ہے، جس میں پاکستانی جدت کار ارفع کریم کی کامیابیاں بھی شامل ہیں۔

قونصل جنرل سینڈرز نے مشترکہ اقتصادی مفادات پر مبنی تعلقات کی مثال دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ تجارتی اور ثقافتی روابط کا بھی ذکر کیا، جن میں سیالکوٹ میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ فیفا ورلڈ کپ فٹ بالز کی تیاری بھی شامل ہے۔

قونصل جنرل سینڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ پاک امریکہ تعلقات، جو اب آٹھ دہائیوں پر محیط ہونے کو ہیں، بڑھتی ہوئی دو طرفہ تجارت پر استوار ہیں، جس کا حجم گزشتہ برس ساڑھے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، انہوں نے اسے مسلسل اقتصادی تعاون اور مارکیٹ تک وسیع تر رسائی کی بنیاد قرار دیا۔

قونصل جنرل سینڈرز نے پاک امریکہ شراکت داری کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آنے والے وقت میں موجود مواقع پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پاکستان کی بہترین یونیورسٹیاں موجود ہیں جو پُرعزم اور پُرامید نوجوانوں سے بھری ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایسے کاروباری افراد، انجینئرز، محققین، فنکار اور جدت پسند موجود ہیں جو ان تعلقات کے مستقبل کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ بہترین تصور جو پنجاب پیش کرنے والا ہے، ابھی سامنے نہیں آیا اور جب ایسا ہوگا تو آپ امریکہ کو اپنے ساتھ کھڑا پائیں گے۔

تقریب میں فلاڈیلفیا کی اصل ’لبرٹی بیل‘ کی حقیقی جسامت کے حامل ماڈلز کی رنگا رنگ نمائش بھی شامل تھی۔ ان ماڈلز کو پاکستانی فنکاروں نے قونصل خانے کے ’لنکن کارنر‘ نیٹ ورک کے ذریعے تیار اور پینٹ کیا تھا۔

یہ اقدام امریکی اقدار اور پاکستانی رہنماؤں کی اگلی نسل کے درمیان نچلی سطح پر پائیدار روابط استوار کرنے کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کے وسیع تر عزم کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ ’فریڈم 250‘ سال بھر پر محیط ایک عالمی اقدام ہے جس کی قیادت دنیا بھر میں موجود امریکی مشنز کر رہے ہیں اور اس کا مقصد ’اعلامیہ آزادی‘ کی 250 ویں سالگرہ منانا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ’’امریکی عظمت کا نیا دور‘‘ کے نعرے تلے قومی سطح پر شروع کیا جانے والا یہ اقدام انتظامیہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی اقدار کو اجاگر کیا جائے، دوطرفہ شراکت داریوں کو مضبوط بنایا جائے اور تجدید شدہ قومی فخر و اتحاد کے ذریعے عالمی سطح پر امریکی قیادت کو مستحکم کیا جائے۔