خیبر پختونخوا میں نظام مفلوج تھا، قانون کے دائرے میں عوام کیلئے اقدامات کریں گے: شزا فاطمہ

خیبر پختونخوا میں نظام مفلوج  تھا، قانون کے دائرے میں عوام  کیلئے اقدامات کریں گے: شزا فاطمہ

  شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ آج ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مختلف امور اور ایجنڈاز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جب کہ اقوام متحدہ میں ہونے والی کامیابیوں اور ایمرجنسی سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

اُنہوں نے خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور لوگوں کو علاج معالجے کے لیے راولپنڈی آنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا میں یونیورسٹی، اسپتال اور ڈیم کہاں ہیں؟ 13 سال سے صوبے میں حکومت کرنے والوں نے اس عرصے کے دوران کیا کام کیا؟

شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں نظام مفلوج ہو چکا تھا، صوبے کے معاملات کے حوالے سے ’ری بوٹ‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کریں گی، تاہم آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے جو ضروری ہوا، وہ اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مختلف امور پر گفتگو ہو گی جس میں اقوام متحدہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور ایمرجنسی سے متعلق معاملات بھی شامل ہوں گے۔