خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی تمام چھ تجاویز تسلیم کرلیں، اس کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی، پی ٹی آئی کی تمام چھ تجاویز ماننے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی، گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت لگائی گئی۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات میں دہشت گردی کا معاملہ سرفہرست تھا، حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔
وزیر داخلہ کا علامہ راجہ ناصر عباس کے آئین کی خلاف ورزی سے متعلق مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت ہی لگائی گئی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں جب کہ چوتھی مرتبہ چھ تبدیلیوں یا تجاویز کی بات کی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کی تمام چھ تجاویز تسلیم کرلیں، لیکن اس کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
وزیر داخلہ نے مذاکراتی عمل میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عدم شرکت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب فیصلہ سہیل آفریدی نے کرنا تھا تو وہ مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ جب معاملات طے ہوگئے تو ڈرافٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھیجا گیا۔
محسن نقوی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مراد سعید سے فیصلے کیوں لے رہے تھے؟ پی ٹی آئی کی کابینہ کے ارکان نے کہا کہ مراد سعید نے ہمیں مروادیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات کا حل چاہتی تھی، تاہم ان کے بقول تجاویز تسلیم کرنے کے باوجود مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔