خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج فی الحال چھ ماہ کے لیے نافذ کیا گیا ہے، تاہم اس کا دو ماہ بعد بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے تیسرے روز صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف بدامنی، احتجاج یا جلسے جلوسوں کے آثار دکھائی نہیں دیے جب کہ ان اقدامات پر ردعمل زیادہ تر قانونی اور آئینی بحث تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیرہ سال تک کرپشن ہوتی رہی ہو تو اس کے نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں کہ چھتیں گرنے لگتی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر گورنر راج نافذ نہ کیا جاتا تو، ان کے بقول، متعلقہ حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو پورے صوبے کی چھتیں گر جاتیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے چھ ماہ بعد صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم یہ جائزہ دو ماہ بعد بھی ممکن ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف زمینی سطح پر کوئی نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے اور مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کو پورا وقت دیا، لیکن بالآخر دستیاب گنجائش ختم ہوگئی۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افراد وزیر اعلیٰ سے ہدایات لیتے تھے، جبکہ وزیر اعلیٰ خود ایسے شخص سے ہدایات لیتے تھے جو افغانستان میں بیٹھا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دل کی بھڑاس نکالنے کا پورا موقع دیا گیا۔
اُن کا صوبے میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہاں لوٹ مار کرنے والے افراد غائب ہوگئے ہیں اور ان کے مطابق ایک شخص کو پکڑا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر مذکورہ شخص کی شناخت یا گرفتاری کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں احتجاج یا بدامنی کے آثار دکھائی نہیں دیے اور وفاقی اقدامات پر فی الحال قانونی و آئینی بحث جاری ہے۔
خواجہ آصف کا محمود خان اچکزئی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے ساتھ پرانے روابط ہیں اور وہ پرانی سیاست کی پیداوار ہیں، سیاسی اختلافات کے باوجود تعلقات ختم نہیں کیے جاتے اور ناطے نہیں توڑے جاتے۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بہت اچھی حکومت ہے اور افغان مہاجرین وہاں جا کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ افغان مہاجرین وہاں دودھ اور شہد کی نہروں سے فائدہ اٹھائیں۔