خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز

خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز

ذرائع کے مطابق 100 سے 180 روزہ ایکشن پلان میں ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر میں امن وامان، انتظامی ڈھانچہ، عوامی خدمات اور معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دی جائے گی، اس دوران سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں سکولوں میں نیا فرنیچر، صحت کے مراکز پر سہولیات دینے کی تجویز بھی پلان میں شامل ہے جب کہ نوجوانوں کو بلاسود قرضے اور فنی تربیت دینے کے پروگرام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن و امان، انتظامی ڈھانچے کی بہتری، عوامی خدمات اور معاشی استحکام یقینی بنانے کے لیے 100 تا 180 روزہ ایکشن پلان تیار کرلیا گیا ہے، جس میں صوبے کے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

منصوبے کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن کا مقصد صوبے میں انتظامی بہتری، عوامی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے، ایکشن پلان میں صوبائی حکومت، سابقہ سینیٹر اور وزیر داخلہ، مختلف محکموں کے مشیروں اور سرکاری افسران نے بھی دورہ کر کے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

اس سلسلے میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پشاور کے تحت سٹریٹ ایم پی او کے تحت کام جاری کیے جائیں، منصوبے میں تقریباً 1150 اہم سڑکوں کی مرمت، آٹھ ہزار کھلے مین ہول پر ڈھکن لگانے، 4 ہزار مقامات پر صفائی بہتر بنانے، تقریباً 150 بند نکاسی آب کے راستے کھولنے اور 80 پارکوں کی بحالی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

اسی طرح تمام اضلاع کے بازاروں اور شہری عمارتوں کی خوبصورتی، اہم شاہراہوں پر شمسی توانائی سے چلنے والی روشنیاں،پشاور کے 20 مصروف ترین ٹریفک مقامات پر بہتری اور رنگ روڈ کے نامکمل حصوں سمیت جی ٹی روڈ کی تزئین و مرمت بھی تجویز کردہ اقدامات میں شامل ہیں۔

علاوہ ازیں بنوں میں پائی پاس کی تعمیر و بہتری، غیر فعال پانی کی فراہمی کی سکیموں کی بحالی اور منتخب اضلاع میں 24 گھنٹے فعال بنیادی صحت مراکز اور کھیلوں کے میدان بہتر بنانے کی تجاویز بھی دی گئی ہیں، صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت پر حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات، 250 مراکز پر 24 گھنٹے سہولت، ضروری ادویات کی کم از کم 80 فیصد دستیابی اور ڈاکٹروں، نرسوں، مددگار اور دیگر عملے کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی تجویز کی گئی ہے۔

منصوبے کے مطابق تعلیم کے شعبے میں ڈیڑھ ہزار سکولوں کی بہتری، تقریباً 7 لاکھ طلبہ کے لیے فرنیچر کی کمی پوری کرنے، کم کارکردگی والے سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے، ضم اضلاع میں تباہ یا غیر فعال سکول کھولنے اور جنوبی خیبرپختونخوا میں ریسکیو 1122 کی خدمات بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔

نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضوں، فنی تربیت، روزگار سے منسلک مہارتوں، سرکاری عمارتوں میں نوجوانوں کے مراکز، کھیلوں کے مقابلوں اور یونیورسٹیوں میں کاروباری اور تحقیقی منصوبوں کے فروغ کی تجاویز شامل ہیں، توانائی اور معدنیات کے شعبے میں 65 ہزار گھرانوں، خصوصاً بیواؤں اور محروم طبقات، کو شمسی گھریلو نظام کے لیے رعایتی مالی معاونت دی جائے گی۔

پلان کے تحت کان کنوں کے طبی معائنے، فنی تربیت، کان کنی کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور کوہاٹ، ایبٹ آباد اور بونیر میں کانوں میں حادثات سے نمٹنے کے مراکز قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

دریں اثنا ایکشن پلان کے لیے مختلف نام بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں مستحکم خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا 180 روزہ سٹریٹجک ایکشن پلان شامل ہیں۔