خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر اعوان نے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی، ججوں کی خودمختاری اور اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے، بعض منظور شدہ آئینی ترامیم میں ایسی شقیں موجود ہیں جن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’دی اینکرمین‘ میں میزبان علی سہیل سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ اہم آئینی تبدیلیوں پر پارلیمنٹ، پارلیمانی کمیٹیوں اور قائمہ کمیٹیوں میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے، ججوں کو بے اختیار نہیں ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ججوں کی تعلیمی اسناد سے متعلق تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2021 میں امجد سے متعلق ڈگری کے معاملے کو چیلنج کیا تھا، بنیادی مطالبہ متعلقہ ڈگری کی تصدیق اور معاملے کو شفاف انداز میں حل کرنا ہے، جوڈیشل کمیشن کو تین صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی فراہم کی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈگری کی تصدیق کس طریقہ کار کے تحت کی گئی اور متعلقہ ریکارڈ سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کے بجائے ایک شہری کی جانب سے اٹھایا گیا سوال ہے، جوڈیشل کمیشن میں ججوں کی تقرری اور تصدیق کے معاملات میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ اگر ڈگری کا معاملہ شفاف طریقے سے حل ہو جائے تو متعلقہ فریق کو مٹھائی کھلانے کے لیے بھی تیار ہوں، انہوں نے استعفے، بلا مقابلہ انتخاب اور مینار پاکستان پر قوم سے معافی مانگنے سے متعلق اپنے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے حوالے سے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سیاسی اور قانونی تشخص ایک بڑے تنازع کی زد میں آیا ہے، ایسے معاملات کو باہمی بات چیت، قانونی طریقہ کار اور شفاف تصدیق کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر بات کرتے تو پیش رفت کی گنجائش پیدا ہو سکتی تھی۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق سوال پر لیگی رہنما نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ گورنر راج ناگزیر ہو جائے تو آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے، صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا حکومت کی ذمہ داری ہے، سیاسی قیادت کو بھی عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے پولیس اور انتظامیہ میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے موجود مسائل محض 180 دن میں مکمل طور پر حل نہیں کیے جا سکتے، اس کے لیے تمام اداروں کو مل کر طویل المدتی اقدامات کرنا ہوں گے۔
.jpg)
کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے اثاثوں کی جانچ پڑتال ضروری ہے، معدنی وسائل کی لیزوں میں شفافیت اور مقامی صنعت کے فروغ کے لیے بھی پالیسی سازی ہونی چاہیے۔
اپنے حلقے این اے 15 میں گرینائٹ کے ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں قیمتی پتھر موجود ہونے کے باوجود سڑکوں اور مقامی صنعت کی صورتحال تسلی بخش نہیں، گرینائٹ دوسرے شہروں اور بیرون ملک لے جا کر اس کی کٹنگ اور سلائسنگ کی جاتی ہے جس سے مقامی سطح پر صنعتی ترقی کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔
نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی کردار کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ادوار میں عوامی حمایت حاصل کی، نواز شریف کے جوہری دھماکوں کے فیصلے اور سول بالادستی سے متعلق مؤقف نے ان کی سیاسی شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ہزارہ کی نمائندگی سے متعلق کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ متعلقہ کونسل میں ہزارہ سے بھی نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ علاقے کے لوگوں کے مسائل اور مطالبات مؤثر انداز میں پیش کیے جا سکیں۔
پارٹی کے اندر اختلاف رائے پر انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بعض ساتھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، اصولی اختلاف کو غداری قرار نہیں دینا چاہیے، اگر ان کے خلاف کوئی انکوائری ہوتی ہے تو جواب دینے کے لیے تیار ہیں لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ممکنہ تبدیلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں انہیں تبدیل کرنے کے لیے واضح وجہ اور مناسب متبادل ہونا چاہیے۔