والد مالی مشکلات کے بہانے بچوں کے اخراجات سے بری نہیں ہوسکتا: لاہور ہائیکورٹ

والد مالی مشکلات کے بہانے بچوں کے اخراجات سے بری نہیں ہوسکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے کاشف محمود کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ بچوں کی حوالگی کا فیصلہ کرتے وقت ان کی تعلیم، نگہداشت، عمر اور خواہش کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، بچوں کی فلاح و بہبود صرف مالی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ اس میں جذباتی، نفسیاتی اور تعلیمی ضروریات بھی شامل ہیں، بچوں کی بہتری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور والدین میں سے کسی کا ترجیحی حق بچوں کے بہترین مفاد پر فوقیت نہیں رکھتا۔

فیصلے کے مطابق دونوں بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں اور والد انہیں والدہ سے منتقل کرنے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا، بچے نجی سکول میں زیر تعلیم ہیں اور انہوں نے عدالت میں اپنی والدہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاہم اسے حتمی فیصلہ بنانے کے بجائے مقدمے کے مجموعی حالات کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔

جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں واضح کیا کہ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، بچوں کی حوالگی کے معاملے میں عدالت کو والدین کے حقوق کے بجائے بچوں کے بہترین مفاد کو مقدم رکھنا ہوتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ والد مالی مشکلات یا بے روزگاری کا عذر پیش کر کے بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا، تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار والد ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی یا شواہد کی غلط تشریح کو ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے بچوں کی حوالگی سے متعلق ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے والد کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے بچوں کی حوالگی سے متعلق سابقہ حکم برقرار رکھا، عدالت نے بچوں کے ماہانہ اخراجات اور ان میں سالانہ 10 فیصد اضافے کے حکم کو بھی برقرار رکھا، جبکہ بچوں سے ملاقات کیلئے پہلے سے طے شدہ شیڈول بھی برقرار رہے گا۔