خلاصہ
- لندن: (دنیا نیوز) برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام جلد ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، ایران اور سعودیہ نے چار ملکی اجلاس کی تصدیق کر دی۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں علاقائی تعاون اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ مجوزہ ملاقات ایران اور تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ ہوگا، جب سے سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران آج ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے سینئر حکام کی میزبانی کر رہا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران میں اس ملاقات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ فلسطین، لبنان اور خطے کی صورتحال پر اجلاس میں بات ہوگی، خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد کا قیام ضروری ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ تمام صورتحال پر نظر ہے، ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں، ملکی سلامتی کے لیے دفاع کا حق استعمال کریں گے، ایران کے خلاف کسی بھی وقت جارحیت کے خطرات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 4 ملکی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیش کی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیرکی پیشکش پرایران نے4 ملکی اجلاس کی ہامی بھری۔
ادھر سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں ہونے والے اجلاس میں سعودی وفد کی قیادت کریں گے، اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندے ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔
اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سربراہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی بھی شرکت کریں گے، خطے میں جاری بحران اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، ملاقات میں تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا جائے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان ایران آئیں گے، ترک انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی تہران آئیں گے۔
علی باقری کے مطابق تینوں ممالک کے رہنما ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات میں دورے سے آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب خطے کی سکیورٹی کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف قطر کے مصالحت کاروں کا وفد تہران پہنچ چکا ہے، قطری وفد ایرانی حکام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات پہنچائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔