جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے: عطا تارڑ

جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے: عطا تارڑ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، پائیدار ترقی کا مقصد موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا خطرہ ڈس انفارمیشن ہے، ہر انسان کو اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، معلومات کے پھیلاؤ سے زیادہ ان کی تصدیق ضروری ہے، سوشل میڈیا پر فیکٹ چیک کے نظام کو بہتر بنانا اہم ضرورت ہے، ڈیجیٹل میڈیا میں خصوصی کورسز متعارف ہونے چاہییں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے دوران جنریشن زی نے سوشل میڈیا پر کمال مہارت کا مظاہرہ کیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی جعلی خبروں کا پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری سے جواب دیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر معلومات کا غلط پھیلاؤ روکنا اہم چیلنج ہے، مصنوعی ذہانت کے منفی استعمال کا رجحان بھی خطرناک ہے، سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی گئی ہے جبکہ الیکٹرانک میڈیا کے لیے پیمرا موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ آزادی اظہار رائے پر قدغن نہیں، اس کا اطلاق صرف الیکٹرانک کرائم پر ہوتا ہے، آزادی اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں، ڈیفیمیشن لا کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل محاذ پر جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین مضبوط کیے گئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے آگاہی ضروری ہے۔