خلاصہ
- لاڑکانہ :(دنیا نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے۔
سندھ کے علاقے لاڑکانہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کو ترجیح قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے، طاقت کا حقیقی استعمال محفوظ، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں ہے، موجودہ حالات میں دنیا بھر کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور پاکستان کے عوام بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ انہیں کافی عرصے بعد لاڑکانہ آنے کا موقع ملا ہے، بلوچستان سمیت دیگر علاقوں سے بھی لوگ علاج معالجے کے لیے لاڑکانہ آتے ہیں، ہماری ہمیشہ یہ ترجیح رہی ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کو عالمی معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوئی بھی شہری مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج معالجے کی سہولت سے محروم نہیں رہے گا، لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مقابلے میں سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ امید ہے 600 بستروں پر مشتمل ہسپتال لاڑکانہ کے شایانِ شان تعمیر ہوگا اور یہاں عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہر میں بہت سے مسائل موجود ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی، لاڑکانہ میں پانی کی فراہمی کے مسائل بھی حل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی بہترین کام کر رہی ہے اور تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، خیبرپختونخوا حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر اتفاق ہوا ہے، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات انتہائی مثبت رہی، دونوں نے مل کر حکمت عملی تیار کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کو مختلف صوبوں میں کابینہ کے اجلاس بلانے کی دعوت بھی دی ہے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں اور تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کے لیے کراچی میں اجلاس ہوگا، وزیراعظم سے بیرون ملک دورے کے بعد دوبارہ ملاقات ہوگی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو بھی وفاق سے شکایات ہیں، صوبے کو وفاقی حکومت کی جانب سے وہ تعاون نہیں مل رہا جو ملنا چاہیے۔
ملک کی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ معاشی بحران میں ہر کسی سے محاذ آرائی کرنے کے بجائے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت اور رابطوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا فوکس باہمی اختلافات کے بجائے عوام کی مشکلات حل کرنے پر ہونا چاہیے، پہلے پی ٹی آئی اور پھر مولانا سے لڑائی ہوگی تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، ہماری ترجیح عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔
امریکی انتخابات اور عالمی صورتحال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا کے عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نعرہ لگانے پر مینڈیٹ دیا تھا، امریکی عوام نے جنگ کو مسترد اور امن کو ووٹ دیا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے سازش کے تحت امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جنگ کے حالات دنیا پر مسلط کیے گئے اور اس کا معاشی بوجھ عوام برداشت کر رہے ہیں، ایسا معاشی بوجھ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
صحافی کی جانب سے سیمینار کے حوالے سے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر جگہ لوگ سیمینار، سیمینار کھیل رہے ہیں، آپ بھی لاڑکانہ پریس کلب میں سیمینار رکھیں، میں ضرور شرکت کروں گا۔