پاک افغان بارڈر کی بندش سے کینو سستے، شہری خوش، باغبان پریشان

پاک افغان بارڈر کی بندش سے کینو سستے، شہری خوش، باغبان پریشان

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی رہی ہے، افغان پیداوار کی بڑی منڈی پاکستان جبکہ پاکستانی اشیاء کی منڈی افغانستان سمجھی جاتی ہے، پاکستان میں کئی ماہ سے سرحدیں بند ہونے سے سب سے زیادہ زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

کسان اتحاد پاکستان کے چیئرمین خالد باٹھ نے بتایا کہ پہلے آلو کی برآمد نہ ہونے پر کاشت کاروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اب کینو منڈیوں میں رل رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حکومت پنجاب نے کاشت کاروں کو برآمدات کی اجازت دینے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن کاشت کاروں کے لیے اپنی فصلیں برآمد کرنا ممکن نہیں بلکہ حکومت بھارت اور افغانستان کی متبادل مارکیٹوں تک رسائی ممکن بنائے، اگر فوری طور پر دوسرے ممالک میں برآمدات شروع نہ ہوئیں تو زراعت تباہ ہوجائے گی۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ زرعی اشیاء کی بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشیا اور فلپائن تک رسائی کو ممکن بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

محکمہ زراعت کے مطابق رواں سیزن آلو کی پیداوار ایک لاکھ 20 ہزار ٹن جبکہ کینو کی پیداوار 40 لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے، رواں سیزن میں پہلے 10 دن میں صرف چھ ہزار ٹن کینو سری لنکا اور فلپائن برآمد کیے جا سکے ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر مارکیٹ میں آلو اور کینو سستے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جس سے عام شہری خوش ہیں، کینو ان دنوں دو سو روپے کلو تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس بار سو روپے فی کلو سے بھی کم میں فروخت ہو رہا ہے۔

پنجاب کینو کی کُل ملکی پیداوار کا 95 فیصد پیدا کرتا ہے جبکہ آلو کی بھی زیادہ کاشت پنجاب میں ہی ہوتی ہے، مقامی مارکیٹ کی ضرورت کے علاوہ باقی کینو اور آلو ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔