کرہ ارض پر 2025 تیسرا گرم ترین سال، 2026 بھی مختلف نہیں ہوگا

کرہ ارض پر 2025 تیسرا گرم ترین سال، 2026 بھی مختلف نہیں ہوگا

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور کیلیفورنیا میں قائم ایک غیر منافع بخش تحقیقی تنظیم برکلے ارتھ کے مطابق، گذشتہ 11 سال اب تک کے سب سے زیادہ گرم ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں 2024 سرفہرست اور 2023 دوسرے نمبر پر رہا۔

کوپرنیکس نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ پہلی بار عالمی درجہ حرارت گذشتہ تین سالوں میں صنعتی دور سے پہلے کے اوسط کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے۔

برکلے ارتھ نے ایک علیحدہ رپورٹ میں کہا کہ2023-2025 کے دوران گرمی میں اضافے کا مشاہدہ انتہائی حد تک رہا ہے اور یہ زمین کی گرمی کی شرح میں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے،2015 کا تاریخی پیرس معاہدہ دنیا کے درجہ حرارت کو دو ڈگری سیلسیس سے نیچے اور 1.5 ڈگری سیلسیس پر رکھنے کی کوششوں کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ ایک طویل مدتی ہدف ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے موسمیاتی تبدیلی کے بدترین نتائج سے بچنے میں مدد ملے گی، 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد تک اس دہائی کے آخر تک پہنچا جا سکتا ہے، جو پیش گوئی سے ایک دہائی قبل ہو گا۔

گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کی کوششوں کو گزہ ہفتے ایک اور دھچکا لگا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو، جو چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا آلودگی پھیلانے والے ملک ہے، کو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی معاہدے سے باہر نکال دیں گے۔

یورپی یونین آب و ہوا کے مانیٹر کے مطابق 2025 میں درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے قبل سے 1.47 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا، جو 2023 کے اوسط درجہ حرارت سے تھوڑا ہی ٹھنڈا رہا جبکہ 2024 میں یہ فرق 1.6 ڈگری سیلسیس تھا۔

برکلے ارتھ کے مطابق تقریباً سات کروڑ 70 لاکھ لوگوں نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ گرم سالانہ حالات کا تجربہ کیا، کوپرنیکس نے کہا کہ انٹارکٹک نے ریکارڈ پر اپنے گرم ترین سال کا تجربہ کیا جبکہ یہ آرکٹک میں دوسرا گرم ترین سال تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کوپرنیکس کے اعداد و شمار کے اے ایف پی کے تجزیے سے پتا چلا کہ وسطی ایشیا، ساحل کے علاقے اور شمالی یورپ نے 2025 میں ریکارڈ پر اپنے گرم ترین سال کا تجربہ کیا، برکلے اور کوپرنیکس دونوں نے خبردار کیا کہ 2026 اس رجحان کو نہیں توڑ سکے گا۔

کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ڈائریکٹر کارلو بوونٹیمپو نے بتایا کہ اگر اس سال گرمی کا ایل نینو موسمی رجحان ظاہر ہوتا ہے تو یہ 2026 کو ایک اور ریکارڈ ساز سال بنا سکتا ہے، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے[ اس لیے ہم نئے ریکارڈ دیکھیں گے چاہے یہ 2026، 2027، 2028 ہوں، اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ سفر کی سمت بہت واضح ہے۔

برکلے ارتھ نے کہا کہ اس کی توقع ہے کہ جاری سال بھی 2025 جیسا ہی ہو گا، جس کا ممکنہ نتیجہ 1850 کے بعد تقریباً چوتھا گرم ترین سال ہو گا، یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ترقی یافتہ ممالک میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی کوششیں، موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی محرک، رک رہی ہیں۔

روڈیم گروپ تھنک ٹینک نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ میں پچھلے سال اخراج میں اضافہ ہوا، جس نے دو سالہ کمی کو ختم کر دیا، کیونکہ سخت سردیوں اور مصنوعی ذہانت کی تیزی نے توانائی کی طلب کو بڑھاوا دیا۔

برکلے ارتھ کے چیف سائنس دان رابرٹ روہڈے نے کہا کہ جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج گلوبل وارمنگ کا سب سے بڑا محرک ہے، اس حالیہ اضافے کی شدت سے پتہ چلتا ہے کہ اضافی عوامل نے حالیہ گرمی کو اس سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے جس کی ہم صرف گرین ہاؤس گیسوں اور قدرتی تغیرات سے توقع کریں گے۔‘

تنظیم نے کہا کہ 2020 سے جہاز کے ایندھن میں سلفر کو کاٹنے کے بین الاقوامی قوانین نے حقیقت میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کر کے گرمی میں اضافہ کیا، جو زمین سے دور سورج کی روشنی کو منعکس کرنے والے ایروسول بناتے ہیں۔