تعلیم اور آگاہی‘ اعتماد کی بنیاد

تعلیم اور آگاہی‘ اعتماد کی بنیاد

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم اور خود آگاہی نہ صرف خواتین کو بااختیار بناتی ہیں بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں، تعلیم کو عموماً ڈگری یا نوکری سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے حالانکہ تعلیم اصل میں سوچنے، سوال کرنے اور اپنے حقوق پہچاننے کا نام ہے۔

تعلیم یافتہ عورت اپنے گرد و پیش کے حالات کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے، غلط اور صحیح میں فرق کر سکتی ہے اور اپنے لئے بہتر فیصلے کر سکتی ہے، خواتین کیلئے تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انہیں سماجی دباؤ، روایتی جکڑبندیوں اور بے جا پابندیوں کے مقابلے میں مضبوط بناتی ہے، جب عورت کو یہ علم ہو کہ وہ آئین، قانون اور معاشرتی طور پر کن حقوق کی حامل ہے تو اس کے اندر خود بخود اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ خود آگاہی بھی بے حد ضروری ہے، خود آگاہی کا مطلب ہے: اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا، اپنی خواہشات، حدود اور مقاصد کو سمجھنا، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزاریں، نتیجتاً وہ اپنے خواب، رائے اور احساسات کو نظرانداز کرنا سیکھ لیتی ہیں، خود آگاہی اس خاموشی کو توڑتی ہے اور عورت کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کی آواز اہم ہے۔

علم اور شعور، اعتماد کی بنیاد

اعتماد کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے، جب عورت علم حاصل کرتی ہے اور خود کو بہتر طور پر جانتی ہے تو وہ اپنی رائے بلا جھجک پیش کر سکتی ہے، فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی، ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتی ہے، خواتین اگر تعلیم اور خود آگاہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو وہ گھریلو، تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں زیادہ پراعتماد نظر آئیں گی۔

گھریلو سطح پر خود اعتمادی

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اعتماد صرف دفتر یا باہر کی دنیا میں ضروری ہے، حقیقت میں اس کی شروعات گھر سے ہوتی ہے، ایک باخبر اور خود آگاہ عورت بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے، گھریلو فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے، اپنے جذبات اور مسائل کو واضح انداز میں بیان کر سکتی ہے، جب عورت گھر میں خود کو کم تر محسوس نہیں کرتی تو اس کا مثبت اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے۔

معاشی خود مختاری اور اعتماد

تعلیم یافتہ اور خود آگاہ خواتین معاشی طور پر بھی مضبوط ہوتی ہیں، چاہے وہ ملازمت کریں، کاروبار کریں یا فری لانسنگ، معاشی خود مختاری عورت کو اعتماد، تحفظ اور خود داری فراہم کرتی ہے، پاکستان میں ہزاروں خواتین آن لائن کام، ہنر سیکھنے اور چھوٹے کاروبار کے ذریعے اپنی پہچان بنا رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم اور شعور مواقع پیدا کرتے ہیں۔

سماجی دباؤ کا مقابلہ

ہمارے ہاں خواتین کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘،’’یہ عورت کے شایانِ شان نہیں‘‘،’’خاموش رہنا بہتر ہے‘‘، مگر تعلیم اور خود آگاہی عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ ہر سماجی دباؤ درست نہیں ہوتا، ایک باخبر عورت جانتی ہے کہ عزت خاموشی میں نہیں بلکہ خود کو پہچاننے اور صحیح مؤقف اپنانے میں ہے۔

رہنمائی کیلئے چند عملی نکات

٭تعلیم کا سفر کبھی نہ روکیں چاہے رسمی تعلیم ہو یا آن لائن کورسز، سیکھنا جاری رکھیں۔
٭مطالعہ اور تحقیق کی عادت ڈالیں ۔ کتابیں، مضامین اور مستند ذرائع شعور بڑھاتے ہیں۔
٭اپنے آپ سے سوال کریں ۔ میں کیا چاہتی ہوں؟ میری صلاحیتیں کیا ہیں؟
٭مثبت خواتین کا ساتھ اپنائیں ۔ ایسی خواتین جو حوصلہ دیں نہ کہ مایوس کریں۔
٭اپنی رائے کا احترام کریں۔ اختلاف رائے رکھنا اعتماد کی علامت ہے، بدتمیزی نہیں۔

تعلیم اور خود آگاہی خواتین کیلئے محض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد ہیں، ایک باخبر، خود شناس اور تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی روشن مثال قائم کرتی ہے، ملک اور سماج کی حقیقی معنوں میں ترقی کیلئے خواتین کو تعلیم اور خود آگاہی کے ذریعے مضبوط اور پراعتماد بنانا ناگزیر ہے۔