خلاصہ
- جے پور: (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع سیکر کے ایک کسان نے غذائیت اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور کثیر رنگی بھٹے کی منفرد قسم تیار کر کے زراعت میں جدت کی شاندار مثال قائم کر دی ہے۔
پپرالی گاؤں سے تعلق رکھنے والے کسان سنجے یادو نے قدرتی اور نامیاتی کاشت کاری کے ذریعے خود کفالت کی نئی راہیں دکھائی ہیں، سنجے یادو نے 2012ء میں کیمیائی کھادوں اور زرعی زہروں کا مکمل طور پر استعمال ترک کر دیا اور قدرتی و نامیاتی طریقۂ کاشت اپنایا۔
انہوں نے کھاد اور جراثیم کش ادویات کے بجائے گھریلو کمپوسٹ اور ڈرِپ ایریگیشن جیسے روایتی طریقے استعمال کیے، جس سے زمین کی زرخیزی برقرار رہی اور زہریلے اثرات سے پاک فصلیں حاصل ہوئیں، جو مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت ہوئیں۔
فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے فتح پور کے زرعی تحقیقی مرکز میں منعقدہ ایک ورکشاپ میں شرکت کی، جہاں انہیں ہائبرڈ اور بہتر بیج تیار کرنے کی تربیت دی گئی، اسی دوران ان کے ذہن میں ایک نیا خیال آیا۔
سنجے یادو کے مطابق میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی مکئی تیار کی جائے جو دیکھنے میں بھی منفرد ہو اور غذائیت سے بھی بھرپور ہو۔
انہوں نے سفید، پیلی، ہلکی سرخ اور گہری سرخ مکئی کی مختلف اقسام کے بیجوں کو آپس میں ملا کر ایک نئی کثیر رنگی مکئی تیار کی، اس مکئی کے بھٹوں میں سفید، پیلے اور سرخ رنگ کے دانے شامل ہیں۔
ظاہری دلکشی کے ساتھ ساتھ یہ مکئی اینٹی آکسیڈنٹس اور ضروری غذائی اجزا سے بھی بھرپور ہے، سنجے یادو نے اس مکئی کو براہِ راست مارکیٹ میں فروخت کیا، جہاں ایک بھٹہ 200 بھارتی روپے تک میں فروخت ہوا۔
انہوں نے اس نئی قسم کے لیے پیٹنٹ کی درخواست بھی جمع کرا دی ہے اور ان کا مقصد ہے کہ یہ بیج دیگر کسانوں کو بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں۔