ذہنی دباؤ نظامِ ہاضمہ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے: طبی ماہرین

ذہنی دباؤ نظامِ ہاضمہ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے: طبی ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک رہنے والا اسٹریس جسم میں ہارمونز کی ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جو آنتوں کی صحت اور مجموعی قوتِ مدافعت کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دباؤ کے دوران دماغ جسم کو ایک ایمرجنسی اسٹیٹ میں لے جاتا ہے، جس کے باعث ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور یہ براہِ راست نظامِ ہاضمہ پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس کے نتیجے میں آنتوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹریس مفید بیکٹیریا کو کم کر دیتا ہے جو ہاضمے، قوتِ مدافعت اور ذہنی صحت کیلئے ضروری ہوتے ہیں، جبکہ اس سے نقصان دہ بیکٹیریا میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہ عدم توازن وقت کے ساتھ مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ آنتوں کی دیوار کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے نقصان دہ مادے خون میں شامل ہو سکتے ہیں اور جسم میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے، اگر یہ صورتِحال برقرار رہے تو طویل مدتی ہاضمے کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسٹریس نظامِ ہاضمہ کی رفتار کو بھی متاثر کرتا ہے، جس سے کبھی ہاضمہ سست اور کبھی تیز ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اپھارہ، قبض یا اسہال جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔

ماہرینِ صحت دماغ اور آنتوں کے درمیان مضبوط تعلق کو برین گٹ کنکشن قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذہنی سکون ہاضمے کی بہتر کارکردگی کیلئے نہایت اہم ہے۔

ماہرین نے آنتوں کی صحت بہتر بنانے اور اسٹریس کے اثرات کم کرنے کیلئے چند احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں، جن میں متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی کا استعمال، روزانہ ورزش، مکمل نیند اور ذہنی سکون کیلئے مراقبہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پراسیسڈ فوڈز اور زیادہ چینی کے استعمال سے گریز بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔