خلاصہ
- قاہرہ: (ویب ڈیسک) ایک نئے نظریے کے مطابق مصر کے گیزہ کے عظیم اہرام میں ایسا پوشیدہ ریاضیاتی نظام ہوسکتا ہے جس کا تعلق چاند، ستاروں اور سیاروں سے ہو۔
برطانوی اخبار کے مطابق محقق سیفی لیوی کا کہنا ہے کہ اہرامِ مصر کی اونچائی، بنیاد اور ڈھلوان اطراف سمیت اس کے مختلف پیمائشوں میں ایسے عددی نمونے موجود ہیں جو قدیم مصریوں کے ریاضی اور فلکیات سے متعلق علم کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ نظریہ ایس ایس آر این پر شائع ہونے والے ایک مقالے پر مبنی ہے، تاہم اس تحقیق کا تاحال ماہرین کی جانب سے باضابطہ جائزہ نہیں لیا گیا۔
سیفی لیوی نے قدیم مصری ریاضیاتی طریقوں سے وابستہ کسرات کو استعمال کرتے ہوئے عظیم اہرام کی اہم پیمائشوں کا جائزہ لیا، ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے حاصل ہونے والے بعض اعداد فلکیاتی چکروں اور ریاضیاتی مستقلات سے خاصی مشابہت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک حساب سے 27.5 کا عدد حاصل ہوا، جسے سیفی لیوی چاند کے مسلسل دو حضیضی مقامات کے درمیان تقریباً 27.55 دن کے وقفے کے قریب قرار دیتے ہیں، حضیضِ قمری سے مراد وہ مقام ہے جہاں چاند زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
ایک اور حساب سے 70 کا عدد حاصل ہوا، جسے محقق اس 70 روزہ عرصے سے جوڑتے ہیں جب سورج کی تیز روشنی کے باعث ستارہ شعریٰ (Sirius) دکھائی نہیں دیتا تھا۔
سیفی لیوی کا مزید دعویٰ ہے کہ بعض حساب مشتری، زحل، زہرہ اور مریخ سمیت مختلف سیاروں کی حرکات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ نظریے میں پائی (π) اور سنہری نسبت (Golden Ratio) جیسے ریاضیاتی مستقلات سے ممکنہ تعلق کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
یہ جاننے کے لیے کہ آیا یہ نمونے محض اتفاقاً وجود میں آسکتے تھے، سیفی لیوی نے مبینہ طور پر کمپیوٹر کی مدد سے تیار کیے گئے 1 لاکھ اہرامی ماڈلز سے حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ کیا، تقریباً 2.4 فیصد ماڈلز میں اسی نوعیت کے نمونے دیکھنے میں آئے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ اس امکان کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ عظیم اہرام کی پیمائشیں دانستہ طور پر مخصوص انداز میں ترتیب دی گئی تھیں، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قدیم مصریوں نے عظیم اہرام کو ریاضیاتی یا فلکیاتی کوڈ کے طور پر تعمیر کیا تھا۔
عظیم اہرام تقریباً ساڑھے 4 ہزار سال قبل فرعون خوفو کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا اور روایتی طور پر اسے خوفو کے تدفینی مجموعے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیفی لیوی اس کی ایک مختلف تشریح پیش کرتے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ ممکنہ طور پر اہرام محض مقبرے کے طور پر نہیں بلکہ قدیم علم کو مستقل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہو۔
وہ یہ امکان بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا تعلق ’بن بن‘ (Benben) سے ہوسکتا ہے، جسے قدیم مصری تخلیقی اساطیر میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی دور کا ایک مقدس اولین ٹیلہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ دعوے فی الحال قیاسی نوعیت کے ہیں اور انہیں آثارِ قدیمہ کے مستند شواہد کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
اس کے باوجود یہ نظریہ دنیا کی قدیم اور معروف ترین یادگاروں میں سے ایک عظیم اہرام کے مقصد اور تعمیراتی ڈیزائن سے متعلق جاری طویل بحث میں ایک نیا زاویہ ضرور پیش کرتا ہے۔