روس میں پاکستانیوں کی ترسیلات کا مسئلہ، مجبوری کب تک غیر رسمی راستوں کا سہارا لے گی؟

روس میں پاکستانیوں کی ترسیلات کا مسئلہ، مجبوری کب تک غیر رسمی راستوں کا سہارا لے گی؟

یہ مسئلہ پاکستان رقم بھیجنے کا ہے

روس میں کام کرنے والا ایک پاکستانی اپنی محنت کی کمائی گھر بھیجنا چاہتا ہے۔ کسی کو والدین کے اخراجات پورے کرنے ہیں، کسی نے بچوں کی فیس ادا کرنی ہے، کسی کے گھر میں علاج کے اخراجات ہیں اور کسی کاروباری شخص نے پاکستان میں اپنے سپلائر کو رقم ادا کرنی ہے۔ لیکن روس سے پاکستان کے لیے ایسا آسان، عام فہم اور وسیع پیمانے پر قابل استعمال براہ راست بینکاری یا بین الاقوامی ترسیلاتِ زر کا نظام موجود نہیں جسے ایک عام پاکستانی بلا جھجھک استعمال کر سکے۔

ویسٹرن یونین نے مارچ 2022 میں روس میں اپنی تمام سروسز معطل کر دی تھیں۔ دوسری طرف خود پاکستانی حکومت بھی تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات میں مؤثر ادائیگی کے نظام کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری نے جون 2026 میں واضح طور پر کہا کہ دونوں ممالک تجارت بڑھانا چاہتے ہیں لیکن مؤثر ادائیگی کے نظام کا فقدان ان مسائل میں شامل ہے جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔

بات صرف تجارتی ادائیگیوں تک محدود نہیں۔ یہی خلا عام پاکستانی کی ذاتی ترسیلات میں بھی عجیب صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

ماسکو اور روس کے دوسرے شہروں میں پاکستانی ایک دوسرے کے ذریعے ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک شخص کو روس میں روبل درکار ہوتے ہیں اور دوسرے کو پاکستان میں روپے۔ دونوں آپس میں رابطہ کرتے ہیں۔ روس میں روبل ایک شخص کو دے دیے جاتے ہیں اور پاکستان میں اس کے بدلے متعلقہ خاندان یا اکاؤنٹ میں روپے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔

کبھی کوئی پاکستانی کاروباری شخص روس میں کسی دوسرے پاکستانی کو اپنی مصنوعات دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی قیمت پاکستان میں میرے اکاؤنٹ یا میرے کسی متعلقہ شخص کو ادا کر دیں۔

یہ نظام کسی باقاعدہ مالیاتی ادارے نے قائم نہیں کیا، یہ حالات کی پیداوار ہے

زیادہ تر لوگ شاید بالکل جائز ضرورت کے تحت ایسا کرتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں، رقم کا حساب کرتے ہیں اور معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں اس زنجیر میں کوئی تیسرا شخص یا نامعلوم ایجنٹ داخل ہو جائے۔

فرض کریں ماسکو میں ایک پاکستانی کو پاکستان میں 2 لاکھ روپے درکار ہیں۔ کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ مجھے یہاں روبل دے دیں، میں پاکستان میں آپ کے بتائے ہوئے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرا دیتا ہوں۔

وہ رقم واقعی منتقل ہو جاتی ہے

لیکن روس میں روبل دینے والے پاکستانی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پاکستان میں وہ روپے کس کے اکاؤنٹ سے آئے، وہ رقم کس مقصد سے پہلے کسی سے وصول کی گئی تھی اور اسے اس کے اکاؤنٹ میں کیوں بھیجا گیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بالکل بے خبر شخص کسی دوسرے کے فراڈ کی زنجیر کا حصہ بن سکتا ہے۔

مثلاً کوئی غیر قانونی ویزا ایجنٹ پاکستان میں کسی نوجوان سے روسی ویزا یا ملازمت کے نام پر لاکھوں روپے وصول کرتا ہے۔ وہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں لینے کے بجائے اس پاکستانی کے اکاؤنٹ میں منتقل کروا دیتا ہے جسے ماسکو میں اپنے روبل کے بدلے پاکستان میں روپے درکار تھے۔

ماسکو والا پاکستانی سمجھتا ہے کہ یہ اس کے اپنے روبل کی ادائیگی ہے، پاکستان میں متاثرہ نوجوان سمجھتا ہے کہ اس نے ویزا ایجنٹ کو رقم ادا کی ہے۔

چند ہفتوں بعد جب ویزا نہیں آتا، نوکری نہیں ملتی اور ایجنٹ غائب ہو جاتا ہے تو متاثرہ شخص پولیس یا ایف آئی اے سے رجوع کرتا ہے۔ وہ اپنی بینک تفصیل پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے رقم اس اکاؤنٹ میں بھیجی تھی۔

تحقیقات کا پہلا سرا کس کے پاس پہنچتا ہے؟

اسی اکاؤنٹ کے مالک کے پاس جسے شاید اس پورے فراڈ کا علم ہی نہیں تھا، اصل ایجنٹ نے پیسہ کہیں اور وصول کر لیا، روبل بھی حاصل کر لیے اور بینکاری ریکارڈ میں براہ راست اس کا نام شاید کہیں موجود ہی نہ ہو۔

یہ صرف ایک فرد کی مشکل نہیں۔ جب کسی ملک کے شہریوں کے پاس اپنی جائز رقم گھر بھیجنے کا آسان رسمی راستہ موجود نہ ہو تو غیر رسمی تصفیے کے ایسے طریقے خود بخود جنم لیتے ہیں۔ پھر ان میں حقیقی ضرورت مند بھی موجود ہوتے ہیں، کاروباری لین دین بھی اور بدقسمتی سے فراڈ کرنے والے لوگ بھی۔

یہاں ایک بات بہت واضح رہنی چاہیے

حوالہ، ہنڈی، منی لانڈرنگ یا کسی دوسرے غیر قانونی مالیاتی نظام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے اسی سال حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا اور حکومت نے واضح کیا کہ بیرون ملک رقوم کی منتقلی بینکاری اور دوسرے قانونی راستوں سے ہونی چاہیے۔

لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ایک عملی حقیقت بھی ہونی چاہیے، ہر وہ پاکستانی جس کے اکاؤنٹ میں کسی تیسرے شخص سے رقم آئی ہو لازماً کسی فراڈ، حوالہ نیٹ ورک یا ویزا ایجنٹ کا ساتھی نہیں ہوتا۔

تحقیقات میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ رقم وصول کرنے والے شخص کا اصل تعلق کیا تھا، اس نے روس میں کس کو روبل دیے تھے، اس کے پاس گفتگو، رسید، بینک منتقلی، کرنسی حساب یا دوسرے شواہد موجود ہیں یا نہیں اور کیا اسے واقعی معلوم تھا کہ پاکستان میں رقم بھیجنے والا شخص کس مقصد سے یہ ادائیگی کر رہا ہے۔

یعنی صرف اکاؤنٹ نمبر پوری کہانی نہیں بتاتا۔

اس کے ساتھ روس میں مقیم پاکستانیوں کو بھی اب بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

کسی نامعلوم شخص کے کہنے پر تیسرے فرد کے اکاؤنٹ سے پاکستان میں رقم وصول کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ رقم لینے یا دلوانے سے پہلے اصل فریق کی شناخت، ادائیگی کا مقصد اور لین دین کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص کی طرف سے کہا جائے کہ آپ بس اکاؤنٹ دے دیں، رقم پہنچ جائے گی، تو یہی وہ مقام ہے جہاں رک کر سوال کرنا ضروری ہے۔

خاص طور پر ویزا، نوکری، امیگریشن، پراپرٹی یا کسی دوسرے ایسے معاملے سے آنے والی رقم سے مکمل اجتناب ہونا چاہیے جس کا حقیقی پس منظر معلوم نہ ہو، لیکن ساری ذمہ داری عام پاکستانی پر ڈال کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اصل ضرورت رسمی مالیاتی راستے کی ہے

بھارت اس کی ایک مثال ہے۔ روس اور بھارت نے قومی کرنسیوں اور بینکوں کے ذریعے ایک باقاعدہ ادائیگی کا ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ رواں ماہ روسی حکام کے مطابق دونوں ممالک کی تقریباً 96 فیصد دوطرفہ تجارت روبل اور روپے میں ہو رہی ہے۔ 22 روسی اور 17 بھارتی بینک اس نظام میں شامل ہیں اور روسی بینکاری حلقوں کے مطابق مالیاتی تصفیوں میں بڑی رکاوٹیں کافی حد تک کم ہو چکی ہیں۔

پاکستان کو بھارت کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ مثال ضرور بتاتی ہے کہ سیاسی ارادہ، مرکزی بینکوں کی شمولیت اور بینک سے بینک انتظام ہو تو روس کے ساتھ مالیاتی نظام بنایا جا سکتا ہے۔

خود پاکستان اور روس بھی اس مسئلے کو پہچان چکے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی حالیہ سرکاری رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات میں پائیدار ادائیگی کے طریقہ کار کی تیاری باقاعدہ موضوع ہے۔

یہ اچھی خبر ہے، مگر روس میں رہنے والے پاکستانی کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ یہ نظام زمین پر کب آئے گا؟

ہم پاکستان روس تجارت بڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ 2030 تک اقتصادی تعاون کا روڈمیپ زیر غور ہے۔ دونوں ملک توانائی، زراعت، صنعت، تعلیم اور علاقائی رابطوں میں نئے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری اعداد و بیانات خود بتاتے ہیں کہ بینکاری، ادائیگی کے نظام، مالی سہولت اور ترسیلی انتظامات کے مسائل دوطرفہ تجارت کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔

ایک پاکستانی تاجر ماسکو میں کاروبار کرے لیکن پاکستان میں قانونی اور آسان طریقے سے رقم نہ بھیج سکے تو تجارت کیسے بڑھے گی؟

ایک ملازم روس میں تنخواہ کمائے لیکن اسے اپنے والدین کو پیسے بھیجنے کے لیے دوست تلاش کرنا پڑے تو عوامی روابط کیسے مضبوط ہوں گے؟

اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جب رسمی راستہ بند یا انتہائی مشکل ہو تو اس خلا میں غیر رسمی ایجنٹ داخل ہوتے ہیں، یہی خلا فراڈ کو جنم دیتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس یا ایف آئی اے کی کارروائی نہیں۔ کارروائی فراڈ کرنے والوں کے خلاف ضرور ہونی چاہیے، لیکن ساتھ ایسا باقاعدہ پاکستان روس ترسیلاتی راستہ بھی ہونا چاہیے جہاں روس میں مقیم پاکستانی اپنے قانونی روبل جمع کرائے اور پاکستان میں اس کے خاندان کو بینک اکاؤنٹ یا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں روپے موصول ہو جائیں۔

پاکستان کے پاس اپنے ملک کے اندر راست جیسا جدید فوری ادائیگی کا نظام موجود ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک اسے عرب خطے کے بنا سرحد پار ادائیگی کے نظام سے بھی منسلک کر رہا ہے۔ اس کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل انداز میں رقوم پاکستان بھیجنا آسان بنانا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ روس کے لیے اسی نوعیت کا حل کیوں نہیں تلاش کیا جا سکتا؟

ضروری نہیں کہ ایک روسی بینک پاکستان میں فوراً مکمل برانچ نیٹ ورک کھولے۔ کئی ماڈل ممکن ہیں۔ مرکزی بینکوں کے درمیان تصفیے کا انتظام ہو سکتا ہے، منتخب پاکستانی اور روسی بینک بین البینک نمائندہ اکاؤنٹس قائم کر سکتے ہیں، کسی تیسرے قابل قبول تصفیہ جاتی کرنسی یا مالیاتی نظام کو استعمال کیا جا سکتا ہے، یا ایک باقاعدہ اور ضابطہ شدہ ترسیلاتی راستہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے تکنیکی اور پابندیوں سے متعلق مسائل ضرور ہوں گے۔ روسی بینکاری نظام پر مغربی پابندیاں ایک حقیقت ہیں اور بہت سے عالمی مالیاتی ادارے اسی وجہ سے روس سے متعلق لین دین میں محتاط ہیں۔ لیکن یہی تو وجہ ہے کہ اس مسئلے کو افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے حکومتوں، مرکزی بینکوں اور مجاز مالیاتی اداروں کی سطح پر حل ہونا چاہیے۔

اسی طرح اگر پاکستان میں کوئی شہری ایسے فراڈ میں پھنس جائے تو تحقیقات میں صرف وصول کنندہ اکاؤنٹ دیکھنے کے بجائے رقم کی منتقلی کا مکمل ریکارڈ، اصل وصول کنندہ اور روس میں ہونے والی بنیادی ادائیگی کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔

اس سے مجرم کو تحفظ نہیں ملے گا۔ بلکہ اصل مجرم تک پہنچنا آسان ہوگا۔

روس میں پاکستانیوں کی تعدادبہت کم ہے ، لیکن یہاں موجود ہر پاکستانی اپنے ملک کی معیشت، اپنے خاندان اور پاک روس عوامی روابط کا حصہ ہے۔

اگر پاکستان روس تعلقات واقعی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں تو ان تعلقات کا فائدہ صرف سرکاری وفود اور معاہدوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، عام پاکستانی بھی اسے محسوس کرے۔

اسے اپنے بچے کی فیس پاکستان بھیجنے کے لیے ایجنٹ نہ ڈھونڈنا پڑے، اسے اپنے بوڑھے والدین کو رقم پہنچانے کے لیے اجنبی اکاؤنٹ استعمال نہ کرنا پڑے۔

اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ جس رقم کو وہ اپنی جائز محنت کی کمائی سمجھ کر پاکستان وصول کر رہا ہے، چند ماہ بعد وہ کسی نامعلوم فراڈ کی ایف آئی آر میں درج نکلے گی۔

پاکستان اور روس کے درمیان ایک محفوظ، شفاف اور قانونی مالیاتی راستہ اب صرف تجارت کی ضرورت نہیں رہا۔ یہ روس میں مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کی ضرورت بھی بن چکا ہے۔

غیر رسمی راستوں پر انحصار نہ صرف مالی خطرات بڑھاتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسے افراد کو بھی قانونی مشکلات میں ڈال دیتا ہے جو اصل فراڈ سے مکمل طور پر بے خبر ہوتے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور روس مل کر ترسیلاتِ زر کا ایسا محفوظ، شفاف اور باقاعدہ نظام قائم کریں جس سے عام پاکستانی اپنی جائز کمائی بلا خوف اور بلا خطر اپنے خاندان تک پہنچا سکے۔