سن سپاٹس غائب، دسمبر 2021 کے بعد پہلی بار سورج مکمل طور پر صاف

سن سپاٹس غائب، دسمبر 2021 کے بعد پہلی بار سورج مکمل طور پر صاف

ماہرین کے مطابق زمین کی جانب رخ کیے ہوئے سورج کا حصہ ایک ہموار اور چمکدار ڈسک کی مانند نظر آ رہا ہے۔

رشین اکیڈمی آف سائنس کے سپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سولر ایسٹرونومی لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق سورج کی موجودہ کیفیت غیر معمولی طور پر پرسکون ہے، سورج کی سطح پر سن سپاٹس کی مکمل عدم موجودگی ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے، جس کا مشاہدہ گزشتہ کئی برسوں میں نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلیر ایکٹیویٹی انڈیکس بھی صفر کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو 2024 کے بعد پہلی بار ریکارڈ کیا گیا جبکہ یہ صورتحال سورج کی سرگرمی میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سن سپاٹس دراصل سورج کی سطح پر موجود سیاہ دھبے ہوتے ہیں جو طاقتور مقناطیسی میدان کے اہم مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں، یہی مقناطیسی میدان توانائی کے اخراج اور سولر فلیر جیسی سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، سن سپاٹس کے غائب ہونے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سورج کم سرگرمی یا ممکنہ طور پر سولر منیمم کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ صرف تقریباً 18 ماہ قبل سورج نے اپنے زیادہ سے زیادہ شمسی چکر کا اختتام کیا تھا، جنوری اور فروری 2026 کے آغاز میں سورج نے دو اہم ریکارڈ ساز واقعات بھی دکھائے تھے، جن میں ایک شدید ریڈی ایشن سٹورم اور ایک فعال زون سے متعدد طاقتور فلیرز شامل تھے۔

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ خاموشی عارضی ہو سکتی ہے اور آنے والے عرصے میں سورج کی سرگرمی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم سرگرمی کے طویل ادوار ماضی میں بھی بارہا دیکھے گئے ہیں جو شمسی چکر کا قدرتی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔