ایران میں فوجی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے اہم کردار کا انکشاف

ایران میں فوجی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے اہم کردار کا انکشاف

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں میں ایک ہزار اہداف پر حملوں میں اے آئی نظام کی مدد حاصل کی گئی، امریکی فوج نے جنگ میں جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگی استعمال کی شرائط پر کمپنی اور امریکی حکومت کے درمیان سخت مذاکرات ہوئے ہیں، اے آئی ٹیکنالوجی عسکری فیصلوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے، ایران پر ممکنہ حملے سے پہلے اے آئی نے سیکڑوں اہداف تجویز کیے۔

امریکی اخبار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے ہفتوں کی جنگی منصوبہ بندی کو لمحوں میں بدل دیا، یہی اے آئی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنانے میں بھی استعمال ہوئی، وینزویلا کے صدر کو پکڑنے والے آپریشن میں بھی اے آئی کی مدد شامل تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فوج اور متعلقہ کمپنی کے درمیان خود کار ہتھیاروں اور نگرانی کے اختیار پر تنازع ہے، متبادل نظام آنے تک امریکی فوج موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرتی رہے گی، امریکی کمانڈرز جنگی کارروائیوں میں اے آئی پر تیزی سے انحصار کرنے لگے ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ کسی کمپنی کے فیصلے سے امریکی فوجیوں کی جان خطرے میں نہیں ڈالیں گے، اے آئی جنگی اہداف کی نشاندہی مشینی رفتار سے کر سکتی ہے، ناٹو سمیت عالمی فوجیں بھی اسی طرز کے اے آئی نظام اپنا رہی ہیں۔