خلاصہ
- واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جدید الٹراساؤنڈ آلے کو مریضوں کے معائنے کے لیے استعمال کی منظوری دے دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کمپنی بٹر فلائی نیٹ ورک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ اے آئی سے چلنے والے الٹراساؤنڈ ٹول کو امریکی ریگولیٹری ادارے سے منظوری مل گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ جدید آلہ خودکار طریقے سے حمل کی مدت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خاص طور پر پسماندہ اور کم سہولیات والے علاقوں میں زچگی کی طبی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ ٹیکنالوجی روایتی الٹراساؤنڈ مشینوں سے مختلف ہے، جو مہنگے پیزو الیکٹرک کرسٹل پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ بٹر فلائی کا آلہ ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے جو پورے جسم کی امیجنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی ٹول دو منٹ سے بھی کم وقت میں حمل کی مدت کا تخمینہ فراہم کرتا ہے اور اس کے استعمال کے لیے نہ تو پیچیدہ طبی مہارت درکار ہے اور نہ ہی خصوصی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹراساؤنڈ تصاویر پر تربیت دی گئی ہے، جو مختلف مریضوں اور طبی ماحول سے حاصل کی گئی ہیں، اور یہ خاص طور پر 16 سے 37 ہفتوں کے دوران حمل کے کیسز میں درست نتائج فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
امریکی ادارہ صحت (ایف ڈی اے) بھی طبی آلات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اس سے علاج کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹول اس کی موبائل ایپ کا حصہ ہے اور اسے ایمرجنسی وارڈز، دیہی کلینکس اور کم وسائل والے طبی مراکز میں ڈاکٹروں کو فوری اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مزید برآں، یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں استعمال ہو رہی ہے، جبکہ مستقبل میں اسے امریکا سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔