خلاصہ
- ویلنگٹن: (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے.
تاہم یہ پابندی ابھی فوری طور پر نافذ نہیں ہوئی ہے۔ وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے 24 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ ان کی حکومت اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں نیا بل پیش کرے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال نہیں کر سکیں گے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس مقصد کے لیے موجودہ اکاؤنٹ کی معلومات، چہرے کی شناخت ، سوشل ڈیجیٹل شناختی دستاویزات جیسے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جو پلیٹ فارم قانون کی پابندی نہیں کریں گے، ان پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم لکسن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کو نقصان دہ مواد، نشہ آور نوعیت کی ٹیکنالوجی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرا رہا ہے جس کے اثرات ان کی ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ پابندی کا مکمل نفاذ آسان نہیں ہوگا، لیکن مسئلے کی سنگینی کے باعث اقدام ضروری ہے۔