خلاصہ
- نیومیکسیکو: (ویب ڈیسک) امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو صارفین کے ڈیٹا کی رازداری سے متعلق گمراہ کن معلومات دینے پر 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کو انسٹاگرام اور فیس بک کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات اور بچوں کے استحصال سے متعلق دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔
فیصلہ فیس بک کے کروڑوں صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک ان کی اجازت کے بغیر رسائی حاصل کیے جانے کے الزامات سے متعلق مقدمے میں سامنے آیا، عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کی جانب سے برسوں تک عوام کو گمراہ کرنا اس کے بنیادی کاروباری طریقہ کار سے متعلق سنگین معاملہ ہے۔
جج فرانسس میتھیو نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ فیس بک کی خلاف ورزیاں کئی برسوں پر محیط تھیں اور ان کے اثرات بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچے۔
عدالت نے ریاستی قانون کے تحت 219 ارب ڈالر سے زائد جرمانے کو قابلِ جواز قرار دیا، تاہم حتمی طور پر جرمانے کی رقم کم کرکے 25 ارب ڈالر مقرر کردی۔
یہ حکم جیوری کی جانب سے کمپنی کو صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیے جانے کے تین ہفتے سے زائد عرصے بعد جاری کیا گیا۔
میٹا کے چیف لیگل آفیسر سی جے مہونی نے فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ وہ اپیل میں کامیابی حاصل کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے اور اٹارنی جنرل کے مقدمہ چلانے کے طریقہ کار کے باعث نیو میکسیکو میں کاروبار کرنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔
مہونی کے مطابق مقدمے کا بنیادی مقصد آن لائن اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے مالی بوجھ عائد کرنا ہے۔
دوسری جانب نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریس نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کمپنی کے خلاف امریکی تاریخ کے سب سے بڑے مالی جرمانوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جواب دہ بنانے کا وقت آگیا ہے۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، یہ کارروائی ان انکشافات کے بعد کی گئی کہ برطانوی سیاسی مشاورتی کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا نے ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے فیس بک کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا تھا۔
کیمبرج اینالیٹیکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم سے بھی وابستہ تھی۔ حاصل کردہ ڈیٹا کو ووٹرز کی پروفائلنگ اور انہیں ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
نیو میکسیکو نے الزام لگایا تھا کہ میٹا نے صارفین کو یہ بتانے میں گمراہ کیا کہ ان کے ڈیٹا تک کن افراد اور اداروں کو رسائی حاصل تھی، ریاست نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کمپنی کو تھرڈ پارٹی اداروں کی وسیع ڈیٹا رسائی کا علم تھا اور وہ پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بھی برداشت کرتی رہی۔
ستمبر میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ میٹا اور اس کی قیادت نے ڈیٹا کی رازداری، نفرت انگیز مواد اور دیگر معاملات پر 26 گمراہ کن بیانات دیے، جیوری کے مطابق ان بیانات کے ممکنہ سامعین کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے نیو میکسیکو کے صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد خلاف ورزیاں کیں۔
یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ریاست کے وکیل رینڈی میک گن نے عدالت سے 35 ارب سے 40 ارب ڈالر تک جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس کے برعکس میٹا نے جرمانے کی حد 3 ارب 45 کروڑ ڈالر تک مقرر کرنے کی استدعا کی، کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ صارفین کا ڈیٹا فروخت نہیں کرتی اور ریاست یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کسی صارف کو حقیقتاً گمراہ کیا گیا۔
کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل پر امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے 2019 میں بھی میٹا پر 5 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔