خلاصہ
- قمیض ، پتلون اور کوٹ میں استعمال ہونے والے دیدہ زیب بٹنوں کی تیاری میں دھات ، ہڈیاں ، جانوروں کے سینگ اور سیپ کا استعمال کیا جاتا ہے
لاہور (دنیا نیوز ) ہڈی ، سیپ ، سینگ ، ہاتھی دانت ، نٹ ، سیلولائیڈ اور دھات کے کوٹ ، پینٹ اور قمیضوں میں لگانے کے بٹن بنانے کی انڈسٹری ہمارے ملک میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ سینکڑوں سالوں سے یہاں بٹن بنائے جا رہے ہیں ۔ یہ بٹن سیپ سینگ ، ہڈی ، ہاتھی دانت اور مختلف دھاتوں وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں ۔ حالانکہ آجکل پلاسٹک کے بٹنوں نے کافی ہلچل مچا رکھی ہے ۔ مگر پھر بھی دیگر چیزوں کے بنے ہوئے بٹنوں کی مانگ کم نہیں ہوئی ہے ، کیونکہ پلاسٹک کے بٹن جلدی ہی خراب ہو جاتے ہیں ۔ یہاں ہم ایسے بٹن بنانے کے بارے میں لکھ رہے ہیں جو کوٹ ، پینٹ اور قمیضوں وغیرہ میں لگائے جاتے ہیں اور ان میں دو چار سوراخ ہوتے ہیں ۔ بٹن بنانے میں آپ کو مندرجہ ذیل کام کرنے پڑتے ہیں، اور اس انڈسٹری میں کام آنے والی مشینوں کیتفصیل بھی ساتھ دی جا رہی ہے ۔

پٹیاں یا شیٹیں کاٹنا
سیلولائیڈ ، ہڈی، پیتل وغیرہ کے بٹن بنانے سے پہلے ان کی بڑی بڑی شیٹوں میں سے چھوٹی چھوٹی پٹیاں کاٹ لی جاتی ہیں ۔ پٹی اتنی چوڑی کاٹی جاتی ہے جس میں سے پوک بٹن نکال سکیں ۔ سیپ اور سینگ وغیرہ کی بھی پٹیاں کاٹ لی جاتی ہیں ۔

پٹیاں کاٹنے کی مشین (سرکلرسا)
اس کام کے لئے "سرکلرسا" مشین استعمال کی جاتی ہے ۔ اس مشین میں پہیے کی شکل میں گول آری (سرکلرسا) استعمال کی جاتی ہے یہ مشین ہارس پاور سے چلتی ہے ۔ اس کے ایک منٹ میں 3000 چکر ہوتے ہیں ۔ اس کا وزن تقریباً ایک من ہے ۔
بلینک کاٹنا
جب آپ پٹیاں کاٹ چکیں تو اس پٹی میں سے بٹن کے گول گھیرے (بلینک) کاٹ لئے جاتے ہیں ۔ پٹی کو مشین پر رکھ کر مشین کو چلاتے ہیں تو ایک گول گھیرا کٹ جاتا ہے ۔ پٹی کو آگے سرکاتے رہتے ہیں اور گھیرے کٹتے رہتے ہیں ۔
(بلینک کاٹنے والی مشین)
یہ مشین1/4ہارس پاور سے چلتی ہے ایک منٹ میں3000 چکر ہوتے ہیں اور اس کا وزن تقریباً ایک من ہے ۔ اس میں ایک منٹ میں 15گھیرے (بٹن) کٹتے ہیں ۔

خرادنا اور شکل دینا
اس کے لئے خراد کرنے کی مشین کام میں لائی جا سکتی ہے۔ یہ مشین بٹن کے آگے اور پیچھے سے خراد کر کے اسے خوبصورت شکل کا بنا دیتی ہے ۔
خرادنے کی مشین
یہ 1/4 ہارس پاور سے چلتی ہے اور ایک منٹ میں 2500 چکر لیتی ہے ۔ اس کا وزن تقریباً 1 1/4 من ہے ۔ یہ ایک منٹ میں 15 بٹنوں کو خراد کر انہیں خوبصورت شکل دیتی ہے ۔ سیپ کے بٹن بنانے میں اکثر خراد کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
بٹن میں سوراخ بنانا
اب تیار کئے ہوئے بٹنوں میں ضرورت کے مطابق دو یا چار سوراخ بنائے جاتے ہیں ۔ بٹنوں میں سوراخ کرنے کے لئے ایک خاص قسم کی ڈرلنگ مشین کو کام میں لایا جاتا ہے ۔ یہ مشین2/4 ہارس پاور سے چلتی ہے اور ایک منٹ میں 15 بٹنوں میں سوراخ کر دیتی ہے ۔ اس کا وزن تقریباً 30 کلو ہے ۔

پالش کرنا
دھاتوں اور ہڈی وغیرہ کے بٹن تیار ہو جانے کے بعد ان پر پالش کیا جاتا ہے تاکہ وہ شیشے کی طرح چمکدار اور چکنے ہو جائیں ۔ اس کام کے لئے ایک یا دو بیرل والی پالشنگ مشین استعمال کی جاتی ہے ۔
یہ مشین1/4 ہارس پاور سے چلتی ہے اور ایک منٹ میں45 چکر کرتی ہے ۔ یہ 8 گھنٹے میں 50 گرس پر پالش کر دیتی ہے ۔ مختلف سائزوں کے بٹن بنانے کے لئے مختلف سائزوں کے کٹر اور چکو کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایک سائز کے بٹن تیار کرنے کے لئے آپ کو مندرجہ ذیل ٹولز کے سیٹ کی ضرورت پڑے گی، جو مندرجہ بالا مشینوں پر کام کرنے کے لئے ضروری ہیں:
سرکلرسا ایک عدد
ڈائی کٹر ایک جوڑا
چک چار عدد
خراد کے لئے ٹولس دو عدد
ڈرل ایک عدد
پتلون کے بٹن
پتلون کے بٹن زیادہ تر ٹین یا المونیم کی پتلی چادر سے بنائے جاتے ہیں ۔ انہیں بنانے کے لئے خاص مشین " سکرو پریس " ہے ۔
مندرجہ ذیل سامان سے ایک گھنٹہ میں 200 سے لے کر 400 تک بٹن تیار کر سکتے ہیں ۔
سکروپریس تین عدد
پنچنگ اور فارمنگ ڈائیاں ایک عدد سیٹ
بٹنوں میں سوراخ کرنیکی ڈائی ایک عدد سیٹ
بٹنوں پر ابھری ہوئی لکیریں یا ایک عدد سیٹ
پتلون کے بٹن بنانے والی مشین
بٹنوں پر کپڑا چڑھانا!
شہروں اور بڑے قصبوں میں بٹن بیچنے والے دکاندار بٹنوں پر کپڑا چڑھانے کی مشین بھی اکثر اپنے ہاں رکھتے ہیں ۔ درزی اور دیگر لوگ اپنی پسند کا کپڑا ان کے پاس لاتے ہیں اور یہ لوگ ٹین کے بٹن پر یہ کپڑا اس مشین کے ذریعہ چڑھا کر دے دیتے ہیں اور یہ بٹن بچوں کے سوٹ اور بلاؤز وغیرہ میں لگا دیئے جاتے ہیں ۔ یہ بٹن بڑے ہی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں ، اور کپڑے کی خوبصورتی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک بٹن پر کپڑا چڑھانے کے پانچ یا دس روپے یہ دکاندار چارج کرتے ہیں اور اس طرح بڑا اچھا منافع اٹھاتے ہیں ۔ بٹنوں پر کپڑا چڑھانے کی مشین کی قیمت کوئی خاص زیادہ نہیں ہے اور اس کے ساتھ دو عدد ڈائیاں ملتی ہیں ۔