خلاصہ
- ممبئی: (ویب ڈیسک) اتر پردیش کی ریاست بریلی سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا جہاں ایک خاتون کو ڈاکٹروں نے دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا تھا، لیکن ایمبولینس کے ایک شدید جھٹکے کے بعد وہ دوبارہ سانس لینے لگیں اور مکمل صحت یاب ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق 50 سالہ ونیتا شکلا، جو ضلع پیلی بھیت کی رہائشی ہیں، بریلی کے ایک ہسپتال میں انتہائی نازک حالت میں زیر علاج تھیں، ان کے دماغی ردعمل تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور صحت یابی کی کوئی امید نہیں ہے۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ جب ونیتا کو ہسپتال سے گھر منتقل کیا جا رہا تھا، تو ایمبولینس بریلی ہریدوار نیشنل ہائی وے پر ایک گڑھے سے ٹکرا گئی، جس سے گاڑی کو شدید جھٹکا لگا، اسی لمحے خاتون نے اچانک سانس لینا شروع کر دیا جو کہ ایک معجزہ تھا۔
خاتون کے شوہر، کلدیپ شکلا نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کی آخری رسومات کی تیاری کر چکے تھے کیونکہ وہ سانس نہیں لے رہی تھیں اور دل کی دھڑکن بھی تقریباً رک چکی تھی، لیکن ایمبولینس کے جھٹکے کے بعد جب ونیتا نے سانس لینا شروع کیا، تو انہوں نے فوراً آخری رسومات کی تیاری روک دی اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا۔
نیورو سرجن ڈاکٹر راکیش سنگھ نے بتایا کہ ہسپتال پہنچنے پر مریضہ کی حالت انتہائی تشویشناک تھی، اور ان کا گلاسگو کوما سکیل سکور صرف 3 تھا، جو کہ مکمل بے ہوشی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے، ڈاکٹروں نے فوری طور پر علاج شروع کیا اور مریضہ کی حالت میں بتدریج بہتری آئی۔
اب، ونیتا شکلا مکمل ہوش میں ہیں اور اپنے گھر واپس آ چکی ہیں، ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ ہے، کیونکہ وہ موت کے دہانے سے واپس آ گئی ہیں۔