خلاصہ
- لندن: (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک شہری نے تین سال سے جاری قانونی جنگ جیت لی اور عدالت میں کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی اس کے خلاف عائد 300 پاؤنڈ کا ٹریفک جرمانہ بھی منسوخ کردیا گیا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کی کاؤنٹی ایسیکس سے تعلق رکھنے والے رافال گورفال کو اگست 2023 میں پارکنگ فیس بروقت ادا نہ کرنے پر 100 پاؤنڈ جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
رافال گورفال کے مطابق وہ پارکنگ ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ادائیگی کی مشین پر گئے، جہاں انہیں طویل قطار میں انتظار کرنا پڑا، بعد ازاں معلوم ہوا کہ مشین صرف نقد رقم قبول کرتی ہے اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی ممکن نہیں تھی۔
ادائیگی میں تاخیر کے تقریباً دو ہفتے بعد انہیں 100 پاؤنڈ جرمانے کا نوٹس موصول ہوا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے پارکنگ فیس 16 منٹ کے اندر ادا نہیں کی۔
رافال گورفال نے جرمانے کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا اور مقدمے کی پہلی سماعت جنوری 2024 میں ہوئی، اس دوران جرمانے کی رقم 100 سے بڑھ کر 170 پاؤنڈ ہوگئی، جبکہ قانونی کارروائی طویل ہونے کے باعث یہ رقم بڑھتے بڑھتے 300 پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق مقدمے کے دوران تقریباً ڈیڑھ سال تک انہیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، تاہم بعد ازاں ایک خط کے ذریعے بتایا گیا کہ مقدمے کی سماعت اکتوبر 2026 میں شروع ہوگی۔
یہ وہ مرحلہ تھا جب رافال گورفال نے اپنے دفاع کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا، انہوں نے قانونی تنازع سے متعلق تمام خطوط اور دستاویزات چیٹ جی پی ٹی کو فراہم کیں اور اپنے دفاع کے لیے رہنمائی حاصل کی۔
رافال گورفال کے مطابق چیٹ جی پی ٹی نے انہیں بتایا کہ متعلقہ حکام کے سامنے کیا مؤقف اختیار کرنا ہے، کن اداروں سے رجوع کرنا ہے اور اپنا دفاع کس طرح تیار کرنا ہے، انہوں نے اس رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے اپنی قانونی تیاری مکمل کی۔
تاہم عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی انہیں ای میل موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف مقدمہ اور جرمانہ واپس لے لیا گیا ہے۔
اس طرح رافال گورفال کا تین سال سے جاری قانونی تنازع اختتام پذیر ہوگیا اور انہیں 300 پاؤنڈ کے جرمانے سے چھٹکارا مل گیا، یہ واقعہ قانونی معاملات میں مصنوعی ذہانت سے رہنمائی حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک مثال ہے۔