امریکہ چین ہی نہیں پورے مغرب کے ایٹمی ذخائر کا حساب رکھے: کریملن

امریکہ چین ہی نہیں پورے مغرب کے ایٹمی ذخائر کا حساب رکھے: کریملن

روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے ماسکو میں بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے چین کو معاہدے میں شامل کرنے کی خواہش کے باوجود، روس چین کے مؤقف کا احترام کرتا ہے کیونکہ بیجنگ اس معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

پیسکوف نے واضح کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اسٹریٹجک استحکام سے متعلق کسی بھی مستقبل کے مذاکرات میں برطانیہ اور فرانس کے جوہری ہتھیاروں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ایٹمی قوتوں کو الگ کر کے چین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

ادھر اسی معاملے پر روس کے نئے مستقل مندوب برائے او ایس سی ای دیمتری پولیانسکی نے امید ظاہر کی کہ امریکا روس کے اس پیشکش کا مثبت جواب دے گا کہ نیو سٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی فریقین رضاکارانہ طور پر ہتھیاروں کی حد بندی جاری رکھیں۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ اگر نیو سٹارٹ ختم ہو جاتا ہے تو امریکا اس سے بھی بہتر معاہدہ کرے گا، ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر سٹریٹجک استحکام سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

نیو سٹارٹ معاہدہ روس اور امریکا کے درمیان آخری فعال معاہدہ ہے جو دونوں ممالک کے سٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرتا ہے۔