بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کےامیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے جبکہ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لےرہے۔

انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے فوج بھی تعینات ہے، ملک بھر میں کل 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، شہری آئیں اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالیں۔

پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئیٟ، پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، پارلیمنٹ میں 50نشستیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔

واضح رہے کہ پولنگ کے دوران عوام سے حالیہ قانون سازی کی حمایت یا مخالفت پر رائے کیلئے ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، جن میں قریباً 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی نگرانی اور سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے 69 ریٹرننگ افسران اور 598 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 85 ہزار 225 پولنگ اہلکار ووٹنگ کے عمل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ان انتخابات کا دھارا موڑنے کی مرکزی حیثیت جین ذی کے پاس ہے جسے کنگ میکر قرار دیا جا رہا ہے، جین ذی کا ووٹ جسے پڑے گا وہی اقتدار سنبھالے گا۔