خلاصہ
- ابوظہبی: (سید مدثر خوشنود) مشرق وسطیٰ میں کشیدہ حالات کے پیش نظر ابوظہبی کے صدر شیخ محمد بن زاید نے پاکستان سمیت 12 عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں جن میں علاقائی و عالمی سلامتی پر مشاورت کی گئی۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے آج ایرانی میزائل حملوں کے بعد علاقائی اور عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے خطے کی تازہ صورتحال اور مشترکہ سلامتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، سرکاری رپورٹس کے مطابق یہ رابطے خلیجی، عرب اور یورپی قیادت تک پھیلے ہوئے تھے۔
خلیجی اور عرب خطے میں صدر نے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو کی، ان رابطوں میں علاقائی استحکام، سلامتی تعاون اور مشترکہ مفادات پر زور دیا گیا۔
بین الاقوامی سطح پر صدر شیخ محمد بن زاید نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر، جرمنی کے چانسلر فریڈرِش مرز، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس، ہنگری کے وزیراعظم وِکٹر اوربان اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن سے بھی بات چیت کی، گفتگو میں عالمی استحکام، سفارتی ہم آہنگی اور اقتصادی تعاون کے پہلو زیرِ بحث آئے۔
یہ سفارتی رابطے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات علاقائی کشیدگی اور عالمی چیلنجز کے تناظر میں فعال سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل اعلیٰ سطحی رابطے خلیجی اور یورپی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ سلامتی حکمت عملی کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔