مغربی ممالک روس کے خلاف جنگی تیاریوں کا کھل کر اعلان کر رہے ہیں، پیوٹن

مغربی ممالک روس کے خلاف جنگی تیاریوں کا کھل کر اعلان کر رہے ہیں، پیوٹن

فوجی جامعات کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال اس وقت انتہائی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے، مشرق وسطیٰ میں مسلح تصادم جاری ہے جبکہ یوریشیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی اور تنازعات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین کی قیادت روسی خطرے کا بیانیہ استعمال کرکے اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے بقول مغربی ممالک پہلے روس کے لیے خطرات پیدا کرتے ہیں، پھر روسی ردعمل کو اپنی جارحانہ پالیسیوں کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے دوران اپنے عوام اور تاریخی علاقوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ روسی فوج کے افسران اور جوان بہادری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روس اپنی جوہری دفاعی صلاحیت، بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مسلسل جدید بنا رہا ہے۔ گزشتہ سال ایک ہزار سے زائد جدید ہتھیاروں اور فوجی نظاموں کا عملی جنگی حالات میں تجربہ کیا گیا، جن میں جدید ڈرونز، خودکار روبوٹک سسٹمز اور جدید اسلحہ شامل ہے۔

روسی صدر نے زور دیا کہ روس دنیا میں مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے اصول کا حامی ہے اور ایک کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کو عالمی استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی سروسز کو ہدایت کی کہ دہشت گردی، بدعنوانی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں اور خصوصی فوجی آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی ہر ممکن معاونت کو یقینی بنایا جائے۔