ایران کے جوابی حملے، شام، اردن، بحرین اور کویت کو نشانے پر لے لیا

ایران کے جوابی حملے، شام، اردن، بحرین اور کویت کو نشانے پر لے لیا

پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی اڈے پر حملے میں بھاری نقصان پہنچایا، اردن کے علاقے الازرق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، حملے میں امریکی فوج کے سی 17 ٹرانسپورٹ اور پی 8 کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے کو ہدف بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ اردن کے عوام اور فوجی اہلکاروں کی جانب سے فراہم کی گئی مبینہ انٹیلی جنس معلومات پر شکر گزار ہیں، معلومات کی بنیاد پر الازرق امریکی فوج کے زیر استعمال 20 گوداموں کو تباہ کیا گیا، حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

بحرین اور کویت میں بھی خطرے کے سائرن گونجتے رہے ہیں، بحرین میں امریکی سفارت خانے نے منامہ میں ایرانی حملے سے محتاط رہنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم بھی شامل ہے، ڈرون حملے میں ریڈار سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

کویت کے علی السالم اڈے پر امریکی ایم کیو 9 ڈرونز کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور پرزہ جات کے شیڈ اور ایک ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر بھی دھماکے سے تباہ ہوگئے۔

شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے، کمانڈ سینٹر پر حملہ شہید فوجیوں کے خون کا بدلہ ہے۔

بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ پرسکون رہیں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔

بحرین جہاں امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ موجود ہے، حالیہ دنوں کے دوران ایرانی حملوں کا نشانہ بنا ہے جبکہ اس کے حکام کی جانب سے ایران پر شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں اور یہ دونوں ممالک ہی ابتدائی جنگ بندی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود ایرانی حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور اس پر اپنے کنٹرول کو امریکہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی میں دباؤ کے لیے استعمال کیا جبکہ دوسری جانب امریکا نے بھی ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے۔

اس وقت امریکی افواج پورے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد جنگ میں خاصی تیزی آئی ہے۔