دنیا
خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) آبنائے ہرمز کے بحران سے ایل این جی کی فراہمی کو شدید دھچکا لگ گیا، عارضی مسئلہ اب مستقل قلت میں تبدیل ہورہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے ایشیا میں توانائی کی مصنوعات، بالخصوص مائع قدرتی گیس کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت رکنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
خلیجی ممالک سے تیل اور گیس لے جانے والے ٹینکروں کی نقل و حرکت سے متعلق تنازع اب براہ راست گیس کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز سے کم ہوتی ہوئی بحری آمدورفت ایسی طلب کا سامنا کر رہی ہے جو اب بھی برقرار ہے، جنگ سے پہلے قطر دنیا کی پانچویں حصے کی ایل این جی سپلائی فراہم کرتا تھا۔
یہ صلاحیت کئی ماہ سے دستیاب نہیں اور فوری طور پر بحال ہوتی نظر نہیں آرہی، اس کے علاوہ روس بھی اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا کیونکہ پابندیاں اور اپنی پیداواری حدود اس میں رکاوٹ ہیں۔