مغرب زیلنسکی کی مبینہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے: روسی وزیر خارجہ

مغرب زیلنسکی کی مبینہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے: روسی وزیر خارجہ

روسی نیوز ائجنسی تاس کوندراشوف کو دیے گئے انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے روس، یوکرین جنگ، مغرب کے کردار اور روس کی خارجہ پالیسی سے متعلق اہم خیالات کا اظہار کیا۔

سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک زیلنسکی کی مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کو اس امید کے ساتھ نمایاں کر رہے ہیں کہ اس طرح روس کو شکست دی جا سکے گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مغرب ایک بار پھر روس کو "اسٹریٹجک شکست" دینے اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تقریباً پورا مغرب روس کے خلاف متحد ہے۔

ان کے مطابق مغربی ممالک روس مخالف تنظیموں کی حمایت اور مالی معاونت کر رہے ہیں تاکہ روس کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

لاوروف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ برطانیہ، امریکا اور دیگر مغربی ممالک یوکرین کے ذریعے روس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ برقرار ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مغرب نے روس کے اندر عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے اشتعال انگیزی کی منصوبہ بندی بھی کی تھی، تاہم روسی عوام نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا روس کے خلاف مغربی پالیسی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لتھوانیا اور لٹویا نے اپنی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق پوری دنیا اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ یوکرین تنازع کس انجام کو پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک جنگ بندی کے بعد یورپی ممالک، امریکا، کیف حکومت اور روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بات کر رہے ہیں، تاہم روس اسے ایک الٹی میٹم سمجھتا ہے۔

لاوروف نے دعویٰ کیا کہ اگر موجودہ محاذ پر جنگ روک دی گئی تو کیف حکومت برقرار رہے گی اور ان علاقوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جہاں روس کے مطابق ریفرنڈم کرائے جا چکے ہیں۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس کو غصے میں آ کر جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے "مثبت غصہ" اپنانا چاہیے۔

ان کے بقول اس کا مطلب یہ ہے کہ روس ٹیکنالوجی، معیشت اور دیگر شعبوں میں مزید تیزی سے ترقی کے لیے عزم کے ساتھ کام کرے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس کے بنیادی قومی مفادات میں ملک کی خودمختاری، محفوظ سرحدیں اور اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت سے آزادی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس چین اور بھارت سمیت دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ مستقبل میں مغربی ممالک بھی مساوی اور منصفانہ عالمی نظام کو قبول کریں گے۔