خلاصہ
- جکارتہ: (ویب ڈیسک) انڈونیشیا میں ہزاروں افراد نے بدعنوانی کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کرپٹ حکام کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے بدعنوان سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا، یہ احتجاج گزشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والے ہنگاموں کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا، جن میں تقریباً 10 افراد ہلاک اور 7 ہزار کے قریب گرفتار ہوئے تھے۔
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ 2008 میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس قانون کی منظوری ہے جس کے تحت ریاست کو بدعنوانی سے حاصل کیے گئے اثاثے ضبط کرنے کا اختیار مل سکے گا، بعض مظاہرین نے کرپشن میں ملوث حکام کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا۔
احتجاجی گروپ یونائیٹڈ پٹی کمیونٹی الائنس کے رہنما سوپریانو کے مطابق بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ اگر یہ قانون 15 دسمبر تک منظور نہ ہوا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔
مظاہرے میں مختلف جامعات کے طلبہ بھی شریک ہوئے، جنہوں نے مبینہ بدعنوانی اور بار بار فوڈ پوائزننگ کے واقعات سے متاثر مفت سکول کھانے کے پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
طلبہ نے معاشرے کی عسکریت پسندی ختم کرنے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، طلبہ کے نمائندے نے کہا کہ 27 اگست کا انتخاب گزشتہ سال ہونے والے فسادات اور دیگر واقعات کی یاد میں کیا گیا، تاہم اس بار ان کا مقصد ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانا ہے۔
پولیس نے پارلیمنٹ کے احاطے کے دروازے بند کرکے مظاہرین کو دن کے بیشتر حصے میں باہر روکے رکھا، تاہم رات کے وقت بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
مظاہرین نے ایک پولیس چوکی اور موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا دی گئی جبکہ کئی افراد کو سٹریچر پر منتقل کیا گیا، جکارتہ پولیس نے احتجاج سے قبل ممکنہ اشتعال انگیزی کے شبہ میں 65 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
چیف سکیورٹی وزیر دجمارِی چانیاغو نے کہا کہ پولیس کی تعیناتی کا مقصد آزادی اظہار کے حق کو محدود کرنا نہیں بلکہ مظاہرین کو پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرنے میں مدد دینا ہے۔